|

وقتِ اشاعت :   July 24 – 2016

کوئٹہ : پارٹی میں بڑی تعداد میں عوام کی شمولیت سے ثابت ہوتا ہے کہ بی این پی ایک قومی جماعت کی شکل اختیار کر چکی ہے بلوچ قوم کیلئے اتحاد و یکجہتی وقت و حالات کی ضرورت ہے قلم کو ہتھیار بنا کر ہی حقوق حاصل کئے جا سکتے ہیں بلوچستان میں آباد افغان مہاجرین کے انخلاء کو یقینی بنایا جائے گوادر پورٹ کا مکمل اختیار بلوچستان کو دیا جائے اور بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچانے کیلئے قانون سازی کی جائے آج پارٹی میں شمولیت کرنے والے والوں کا خیر مقدم کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام میاں غنڈی کلی توحید آباد میں شمولیتی پروگرام سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسٖی بلوچ ، مرکزی کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری ، میر عبدالغفور مینگل، گامن مری ، یونس بلوچ ، میر غلام رسول مینگل ، لقمان کاکڑ ، آغا خالد شاہ ، حاجی ابراہیم پرکانی ، رحمت اللہ پرکانی ، غلام نبی پرکانی و دیگر خطاب کرتے ہوئے کیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائض میر محمد شاہین نے سرانجام دیئے تلاوت کلام پاک کی سعادت علی پرکانی نے حاصل کی مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت پر اعتماد کر کے عوام جوق در جوق پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں آج میر غلام نبی پرکانی کی قیادت میں پارٹی میں شمولیت اس بات کی غمازی ہے کہ بلوچ مسائل سے نجات دہندہ جماعت بی این پی کو گردانتے ہیں پارٹی ہی سرزمین کی تاریخ ، تہذیب ، تمدن و قومی تشخص کی بقاء کی جنگ جمہوری انداز میں لڑ رہی ہے آج وقت و حالات کی ضرورت ہے کہ ہم اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موجودہ حالات کا مقابلہ کریں ہماری سیاسی نظریاتی و فکری جدوجہد اس بات کی غمازی ہے کہ ہم بلوچ نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم دے کر ترقی کے منازل طے کریں اور آئے روز پارٹی کے مختلف پروگرامز میں ذہن سازی اور فکری و سیاسی لیکچرکے ذریعے بلوچ نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے اغیار کے سازشوں سے آگاہ کرتے ہوئے اپنی ہزاروں سالوں پر محیط ، تہذیب تمدن و ثقافت کی حفاظت کیلئے ہم اٹھ کھڑا ہونا ہو گا چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو دانستہ طور پر بلوچستان میں آباد کر کے شناختی کارڈز سمیت دستاویزات حاصل کر رہے ہیں جو بین الاقوامی قوانین کے برعکس اقدام ہے ملک کا آئین بھی کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ غیر ملکیوں کو شناختی کارڈز کا اجراء کرے مقررین نے کہا کہ پارٹی تنگ نظری کی سیاست کے خلاف ہے ہم نے ہمیشہ ترقی پسند خیالات و افکار کی ترجمانی کی ہے لیکن یہ کسی طرح درست اقدام نہیں کہ کوئٹہ و بلوچستان کے بلوچوں کو مزید پسماندگی ، غربت ، افلاس کا شکار بنایا جائے آمر پرویز مشرف کے دور میں انسانی حقوق کی پامالی کی گئی بلوچوں کے ذخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے وزیراعظم پیکیج میں کوئٹہ کے بلوچ علاقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔