کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی میں تربت میں جمعیت علماء اسلام کے سابق ضلعی امیر اور ان کے بیٹے کو دن دھاڑے شہادت کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک التواء متفقہ طور پر منظور کر لی گئی میٹرک کے امتحانات میں طلباء وطالبات کو ڈی ایم سی تاخیر سے ملنے کے باعث کالجوں میں 10 اگست تک داخلوں کی توسیع کر دی گئی بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں اپوزیشن رکن مولوی معاذ اللہ موسیٰ خیل نے 24 جولائی کو تربت میں مفتی احتشام الحق اور اس کے جواں سال بیٹے مولانا شبیراحمد کو دن دھاڑے نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کر نے کے خلاف مشترکہ تحریک التواء ایوان میں پیش کی جس میں کہا گیا کہ ان کی شہادت کے خلاف صوبے میں مذہبی، سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید غم وغصے اور تشویش پائی جاتی ہے اور ساتھ ہی بلوچستان کے عوام عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں صوبے میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال بے گناہ افراد کا قتل اور اغواء برائے تاوان روز کے معمول بن چکے ہیں مشترکہ تحریک التواء کو حکومتی اراکین کے بعد 28 جولائی کے اجلاس میں 2 گھنٹے بحث کیلئے منظور کر لی گئی صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ یہ انتہائی سنگین نوعیت کا مسئلہ ہے کسی بھی بے گناہ انسان کی جان ومال کی ذمہ داری حکومت ہے اور کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی بے گناہ افراد کو قتل کرے وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ ایوان میں موجود نہیں ہے تاہم اس کے باوجود صوبے میں عوام کے تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے حکومت مشترکہ تحریک التواء منظورکر نے کی حق میں ہے صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ گزشتہ10 سالوں میں بلوچستان کے11 اضلاع دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے مفتی احتشام الحق اور اس کا جواں سال مولانا شبیراحمد انتہائی عظیم اور پرامن پسند انسان تھے ایسے لوگوں کی قتل عام معاشرے کیلئے تباہی کا سبب بنتی ہے اور10 سالوں کے دوران ہزاروں سیاسی کارکنوں اور بے گناہ لو گوں کو قتل کیا گیا اور عوام نے گزشتہ انتخابات ان دشمن عناصر کو مستر د کر دیا اور گزشتہ ماہ ان عناصر کے خلاف ریلی نکالی اور ریفرنڈم کا اظہار کیا اور نیشنل پارٹی کی بھی درجنوں کا رکنوں کو شہید کیا گیا انہوں نے کہا ہے کہ ایسے عناصر کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا ہے کہ دن دھاڑے لو گوں کا قتل عام ہو رہا ہے ایسے عناصر کو معاف نہیں کیا جائے حکومتی رکن یاسمین لہڑی نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کر تے ہوئے میٹرک کے نتائج کا اعلان کئی دن گزرنے کے باوجود طلباء وطالبات کو ڈی ایم سی اور رزلٹ کارڈ اب تک نہیں ملے جس کی وجہ سے طلباء وطالبات میں مایوسی پھیل گئی اورکالجوں میں داخلوں کی مدت کو بڑھایا جائے صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ سسٹم اب ایسا نہیں رہا کہ کسی کو کارڈ نہیں ملے تین ماہ سے کم مختصر مدت میں میٹرک کے نتائج کا اعلان کیا نتائج کا فی عرصہ گزچکا ہے اگر پھر بھی کسی کو رزلٹ کارڈ نہیں ملے تمام سرکاری کالجوں میں 10 اگست تک داخلوں میں توسیع کی جائیگی اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے پولیس ڈیپارٹمنٹ غیرقانونی پروموشن کو ختم کر دیا اور پولیس ڈیپارٹمنٹ نے لسٹیں بھی جاری کر دی لیکن فاضل بٹ کے ریکارڈکو غائب کر دیا گیا جو سپاہی سے ایس پی کے عہدے تک غیر قانونی طور پر ترقیاتی دی گئی اوراب ان ریکارڈ بھی پولیس ڈیپارٹمنٹ کیساتھ نہیں ہے افسوس کہ یہاں کے مقامی افسران کو ریٹائرڈ ہونے کے باوجود ترقی نہیں دی گئی اور اسی اجلاس میں ان کا ریکارڈ طلب کیا جائے اسپیکر راحیلہ حمید درانی نے کہا ہے کہ وزیرداخلہ کو اپنے چمبر میں طلب کر کے ان کے متعلقہ افسر سے تمام ریکارڈ طلب کرینگے ۔