اسلام آباد : سینیٹر جہانزیب جمالدینی کی جانب سے اپنی حالیہ منظور کردہ تحریک التواء کہ پاکستان اور چین کے درمیان معاہدہ کے چیدہ نکات پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان معاہدوں کے پوائنٹس چھپائے جا رہے ہیں گوادر پر تین سو میگاواٹ بجلی کا منصوبہ پر کام کیا جا رہا ہے جو کہ بمشکل گوادر کی ہی بجلی پورے گا لیکن اس کے علاوہ کسی منصوبے پر کام نہیں ہو رہا پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک پر معاہدوں کے حوالے سے سینٹ کو بتایا جائے کہ اصل حقائق کیا ہیں۔ سینیٹر امیر کبیر خان نے کہا کہ اگر سی پیک پر بات کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ سی پیک کے خلاف ہیں منسٹر صاحب سی پیک کے حوالے سے کوئی مثبت جواب نہیں دیتے بلوچستان کے حوالے سے کوئی فائدہ شامل ہے یا نہیں اس کا جواب دیا جانا چاہئے۔ ویسٹرن روٹ پر وزیر اعظم سمیت ان کی کابینہ نے باتیں کیں لیکن گراؤنڈ پر کوئی کام نظر نہیں آ رہا ہے چین کو 40 سال کے لئے ٹیکس سے استثنی دیا جا رہا ہے جس سے اپنی کمپنیاں تباہ ہو کر رہ جائیں گی اور اپنی ملکی کمپنیوں کو ٹیکس فری نہیں کیا جاتا کیونکہ کہ گوادر بلوچستان میں ہے اسی لئے اس کا فائدہ بھی بلوچستان کو زیادہ ہونا چاہئے ،سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ ہمیں کب تک بے وقوف بنایا جائے گا سی پیک کی سڑک میں ہمیں صرف 40 کلومیٹر دی گئی ہے اس وقت گوادر کے چار برتھ کام کر رہے ہیں گوادر پورٹ پر ایک بھی برتھ نہیں بنا اور اس کی فیزیبلٹی رپورٹ بھی تیار ہوئی ہے سی پیک کے 46 ملین میں سے 11 ملین روپے فنڈز ہیں اور باقی لون ہے لون کس فیصد پر ہے اس کا بھی پتہ نہیں ۔ کے پی کے میں بلوچستان میں لاکھوں لوگوں کو مارا جا رہا ہے تاکہ پنجاب کے لوگ آرام سے سوئیں اگر یہی رویہ رکھا گیا تو فیڈریشن نہیں رہے گی سی پیک میں غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں آدھا ملک اس کی پالیسیوں کی وجہ سے چلا گیا ہے ۔سینیٹر اعظم سواتی موسی خیل نے کہا کہ گوادر کے مالک ہم ہیں لیکن اس کی خوشیوں سے ہم محروم ہیں سی پیک چین نے اپنے محروم علاقے میں کام کرنے کے لئے سی پیک کا آغاز کیا لیکن پاکستان نے اسے تخت لاہور چین سی پیک بنا لیا ہے جس کا تخت لاہور کو نقصان بھگتنا پڑے گا ۔چھ سالوں میں ایک ہزار آٹھ سو لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں گیس اور بجلی سے محروم کر دیا گیا ہے اگر ہماری معدنیات پر تخت لاہور والے انجوائے کریں گے اس کا نقصان بہت زیادہ ہو گا ، وفاقی وزیر شیخ آفتاب نے کہاکہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سی پیک کہ اثرات چھوٹے صوبوں تک نہیں پہنچیں گے34ارب روپے انرجی پر خرچ کیے جا رہے ہیں چائنہ کی کمپنیاں آکر انرجی کے منصوبوں کو بنا رہی ہیں کول،سولر،ونڈ اور ہائیڈرو منصوبوں پر کام شروع ہے، 1320میگاواٹ بجلی2017میں ہمیں مل جائے گی، دوسرا تھر کا منصوبہ ہے اندورن سندھ 660میگاواٹ کے دو منصوبے لگا کہ جا رہے ہیں، ساہیوال میں660دو منصوبے میں یہ بھی 2017میں مکمل ہو جائیں گے، ہائیڈرل کی تین فیزیلٹی رپورٹ بن چکی ہیں جن سے 1870میگاواٹ بجلی حاصل ہو گئی، کوہالا میں1100میگاواٹ کا منصوبہ ہے، بہاولپور میں سولر کا منصوبہ ہے، ونڈ کے دو سو میگاواٹ کے چار منصوبوں پر کام جلد مکمل کر لیا جائے گا، 50-50میگاواٹ کے یہ منصوبے ہیں، سب سے زیادہ فائدہ خیبرپختونخوا کو ہوگا، برہان سے حویلیاں تک روڈ مکمل ہونے کے بعد کے پی کے اور ہزارہ کے درمیاں فاصلہ کو ہو جائیگا،پورے ملک میں موٹر وے کا جال بچھایا جا رہا ہے، اس منصوبے میں کسی صوبے کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو رہی ہے اور نہ ہوئے گی ، کراچی تک ڈبل ٹریک بنانا ہے، جس پر کام جاری ہے، گوادر کا منصوبہ پر کام جاری ہے اور ایل این بی کاٹرمینل بنایا جا رہا ہے، اس کے علاوہ وہاں پر ہستال بنائے جا رہے ہیں گوادر میں اسپشل اکنامک زون بنایا جا رہا ہے یہ منصوبے 2030تک جائیں گے لاہور اسلام آباد موٹر وے پر بھی بڑی تنقید ہوئے تھی لیکن اس کا فائدہ روزانہ لاکھوں لوگوں کو ہو رہا ہے، اس طرح میٹرو پر بھی تنقید ہو رہی تھی لیکن آج ڈیڑو لاکھو روزانہ میٹرو پر سفر کر رہے ہیں، اس طرح سی پیک کا فائدہ پورے ملک کو ہوگا سی پیک کے حوالے سے ایگری منٹ موجود ہے، ملکوں کے درمیاں ایگری منٹ موجود ہوتے ہیں۔