|

وقتِ اشاعت :   August 1 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی چین کے ساتھ براہ راست تجارتی معاہدوں پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان معاہدوں ودیگر تین صوبوں کو بھی اتحاد میں ہی جائے، لگتا ہے کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ صرف پنجاب کیلئے ہے، اگر ایسا ہوا تو اس کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہونگے، آمدہ اطلاعات کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء و سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہاہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر بلوچستان سندھ اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ میں اہلیت نہیں ہے کہ وہ اپنے صوبوں کے بارے میں باہر جاکر معاہدے کریں وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی اہلیت کے ذریعے جاکر چین میں 50 معاہدے کئے ہیں وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پر واضح کر دیا تھا کہ آپ کب میرے پاس آئے کہ کوئی کام نہ ہوا ہو باقی صوبوں کے وزیراعلیٰ میں اہلیت نہیں ہے کہ وہ اپنے صوبوں کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں بلوچستان نیشنل پارٹی ترقی مخالف جماعت نہیں ہے لیکن گوادر میں بلوچ اور بلوچستانی عوام کو کسی بھی صورت اقلیت میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’آن لائن‘ ‘ سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ جس طرح وزیراعلیٰ پنجاب کے پاس اپنے صوبے کی ترقی خوشحالی کیلئے چین سمیت دیگر ممالک میں معاہدوں پر دستخط کا اختیار ہے اسی طرح سندھ ‘ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے پاس بھی اختیارات ہیں کہ وہ باہر جاکر معاہدیں کریں مگر بدقسمتی سے ان وزیراعلیٰ میں اہلیت اور ہمت نہیں کہ وہ اپنے صوبوں کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکیں سی پیک پر بلوچستان نیشنل پارٹی نے مختلف سیمینار کرائے اور یہی مطالبہ رکھا گیا کہ ہم کسی بھی ترقی کے مخالف نہیں لیکن بلوچ اور بلوچستان کی عوام کو اقلیت میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم 28 مئی کو ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد کریں اور یہاں عوام کو روزگار کے مواقعے فراہم کرنے کیلئے اوکیشنل اور ٹیکنیکل مواقعے فراہم کئے جائیں تاکہ ہمارے صوبے کے نوجوانوں میں بھی اہلیت پیدا ہو سکے کہ وہ بھی صوبے کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن جن جن علاقوں سے گزرتی ہے وہاں کے عوام کو رائلٹی سے مستفید کریں ہمارا مطالبہ ہے کہ جو جو سہولیات دوسروں کو مل رہی ہیں وہ ہمیں بھی دینی چاہئیں تاکہ ہمارے بچے بھی تعلیم حاصل کرکے ملک اور صوبہ کا نام روشن کریں ،عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئرزمرک خان اچکزئی اورپیپلزپارٹی کے سابق صوبائی صدر میرصادق عمرانی نے ’’آن لائن‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئرزمرک خان اچکزئی نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ صرف پنجاب کیلئے نہیں بلکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کیلئے ہے وزیراعلیٰ پنجاب کی چین میں 50 معاہدوں پر دستخط اور مفاہمتی یاداشت قابل مذمت اقدام ہے اور اس منصوبے سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فائدہ ملنا چاہئے ہم کسی بھی صوبے کے ترقیاتی عمل کیخلاف نہیں ہے لیکن اپنا حق بھی کسی کو دینے کو تیار نہیں ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب کے چین میں معاہدوں سے متعلق تفصیلات بلوچستان کو بھی دی جائے ہمارے ساحل وسائل پر قرضے لے کر پنجاب کو آباد کر نے کی کوشش کر رہے ہیں عوامی نیشنل پارٹی اس پر کسی بھی صورت خاموش نہیں رہے گی انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائیں کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں سب سے پہلے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں کو ترجیح دی جائیگی لیکن اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ صرف پنجاب کو ہی اقتصادی راہداری منصوبے سے آباد کیا جا رہا ہے ،پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں وفاقی حکومت صرف پنجاب کو آباد اور ترقی یافتہ بنانے کاخواب چھوڑ دے اور اس منصوبے سے بلوچستان اورخیبرپختونخوا کو نظر انداز کیا گیا تو مستقبل میں اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے سی پیک ملک کیلئے گیم چینچر منصوبہ تھا لیکن حکمران اب اسے گیم چینچر کے بجائے پنجاب چینچر منصوبہ قرار دے رہے ہیں جو دوسرے اقوام کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا اقتصادی راہداری منصوبے میں سب سے پہلے مغربی روٹ پر ترجیح دی جائے ،انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی منصوبہ پہلے گوادر کاشغر روٹ منصوبہ تھا اور حکمرانوں نے اچانک اس منصوبے کو پاک چائنا منصوبہ قرار دیکر رخ لاہور کی طرف موڑ دیا مغربی روٹ کو ایک منصوبے کے تحت نظرانداز کیا جارہا ہے تمام ترمیگاپروجیکٹ شرقی روڈ پر منتقل کئے جارہے ہیں اور پنجاب کے وزیراعلیٰ نے چین جاکر ان معاہدوں پر دستخط کئے ہیں انہیں عوام کے سامنے لایا جائے تمام مرکزی ادارے اس منصوبے میں باقی صوبوں کو نظرانداز کرکے صرف پنجاب کو ترقی یافتہ بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں جو مستقبل میں اس کے انتہائی خطرناک نتائج سامنے آئیں گے اور حکمرانوں نے نعرہ دیا کہ اب سپیڈ پنجاب ہوگا اور جو نعرہ سپیڈ پاکستان کا تھا وہ اب اسپیڈ پنجاب میں منتقل ہوگا خزانہ خیبرپختونخوا فاٹا اور بلوچ پشتون صوبہ میں ہے مگر ان خزانوں سے صرف پنجاب کو آباد کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ اس طرح منصوبے سے ملک میں انارکی پیدا ہوگی اور حکمرانوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ اس عمل سے دور ہیں ماضی میں بھی حکمرانوں کی وجہ سے ملک دولخت ہوا انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ کا کوئی مخالف نہیں اور صرف ایک صوبہ کو استعفادہ کرنے سے تمام جمہوری جماعتیں اس کی مخالفت کرتی رہیں گی انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آل پارٹیز کے ساتھ کئے گئے معاہدوں پر عملدرآمد کرکے جو مشترکہ قرارداد آل پارٹیز کانفرنس میں پاس ہوئی تھیں اس کے بعد مغربی روٹ پر ترجیح دی جائے ہر صوبہ کا وزیراعلیٰ بااختیار ہے اور تمام صوبوں کی حکومتیں باہر جاکر معاہدے کرسکتے ہیں مگر مرکزی حکومت صرف پنجاب کیلئے سفارتکاری کرتی ہے اور ہمارے صوبوں کے اس لئے سرمایہ کاری نہیں ہوگی کہ وفاقی حکومت اور ان کے اداروں کا واویلہ ہے کوئٹہ میں حالات ٹھیک نہیں ہیں لیکن کوئٹہ کے حالات کراچی اور لاہور سے بھی بہتر ہیں مگر ایک منصوبے کے تحت یہاں پر سرمایہ کاری نہیں دی جارہی ہے کیونکہ ہمارے صوبے کو کوئی بھی ترقی یافتہ دیکھنا نہیں چاہتا ، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے سربراہ و سینیٹر میر اسرار اللہ زہری نے کہا ہے کہ ملک میں 18 ویں ترمیم کے بعد تمام صوبوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے صوبوں کی ترقی و خوشحالی کیلئے کسی بھی ملک میں معاہدے کرسکتے ہیں اقتصادی راہداری منصوبہ ایک کہانی ہے اور اس کی شروعات اچھی ہے لیکن انجام کا کچھ معلوم نہیں ہوگا ،انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ایک کہانی ہے کہیں نظر آرہی ہے اور کہیں اس کا وجود نہیں شروعات تو اچھی ہیں مگر مستقبل میں اس کے انجام کا کچھ معلوم نہیں ہوگا انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات سے بلوچستان کے بلوچ اور عوام کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہونگے اقتصادی منصوبے میں اگر تمام صوبوں کو ان کے حقوق دیئے جائیں تو ان کے اچھے اثرات مرتب ہونگے ایسا نہ ہو کہ اس منصوبے سے مستقبل میں قوموں کا وجود نہ ہو انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد تمام صوبوں اور ان کی حکومتوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے صوبوں کی ترقی و خوشحالی کیلئے کہیں بھی جاکر معاہدے اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرسکتے ہیں جس طرح ماضی میں پنجاب کے وزراء اعلیٰ نے انڈیا جا کر مختلف معاہدے کئے اور اسی طرح پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بلوچستان میں بھی سابق وزیراعلیٰ اور ان کی حکومت نے ایران کیساتھ بجلی کے معاملے پر معاہدے کئے مگر اب ان پر عملدرآمد کرنا موجودہ حکومت کا کام ہے اور تمام صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے ترقیاتی عمل کو فروغ دے