کوئٹہ : بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ فورسز کی زمینی و فضائی کارروائی کولواہ کے مختلف علاقوں میں دن بھر جاری رہی اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ علی الصبح کولواہ کے علاقوں جت،سگر ،بلور،بدرنگ، 6 گن شپ ہیلی کاپٹروں نے آبادیوں اور ارد گرد کے پہاڑی علاقوں پر شدید بمباری کی پورے دن آبادیوں کا محاصرہ ،مارٹر گولوں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ ہوشاپ سے زمینی فورسز کی بڑی تعداد نے کولواہ کا کیچ کی جانب سے محاصرہ اور راستے بلاک کر دئیے اسی طرح آواران سے کولواہ کی جانب بھی زمینی فورسز کی بڑی تعداد نے راستوں کو سیل کر دیا ہے کولواہ کے علاقوں میں جاری کارروائی کے دوران مواصلاتی نظام کو فورسز نے مکمل جام کر دیا ہے جس کی وجہ سے تاحال مکمل نقصانات کی تفصیل تک تاحال رسائی نہیں ہو سکی ہے تاہم شدید بمباری سے کئی افراد کے جاں بحق و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں صورت حال سنگین ہے اورفورسز کے مزید دستے کولواہ کے علاقوں میں تربت سے پہنچ چکے ہیں اس وقت درجنوں قصبے فورسز کے محاصرے میں ہیں اورفورسز کی فضائی شیلنگ سے نقصانات کا اندازہ بھی مکمل طور پر لگانا مشکل ہے مرکزی ترجمان نے کہا کہ میڈیا سے گزارش ہے کہ وہ ان علاقوں تک رسائی کرنے کی کوشش کریں ترجمان نے کہا کہ کینیڈا میں سماجی کارکن واحد بلوچ کی فورسز کے ہاتھوں گمشدگی اوربلوچستان میں جاری کارروائی کے خلاف بی این ایم کی جانب سے مظاہرہ کیا گیاجس کی قیادت بی این این ایم کینیڈاکی قیادت ظفر بلوچ نے کی جبکہ بی ایس او کے وائس چیئر پرسن کریمہ بلوچ نے مظاہرے سے اپنے خطاب میں کہا کہ سماجی وادبی کارکنان کی اغوا ء نما گرفتاری ریاست کی ناکام پالیسی کا نتیجہ ہے ۔