آئے دن بلوچستان کے ان علاقوں سے احتجاج کی صدا بلند ہوتی رہتی ہے جہاں پر سوئی گیس فراہم کی جارہی ہے۔ ان میں کوئٹہ کے علاوہ مستونگ اور قلات کے علاقے شامل ہیں ۔ گیس کی لوڈشیڈنگ اور گیس پریشر میں مسلسل کمی کی زیادہ شکایات قلات سے آتی ہیں۔قلات میں گھریلو خواتین نے گیس کے پریشر کی کمی کی شکایات کی ہیں اور کہا ہے کہ ان کے لئے کھانا پکانا مشکل ہوگیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گیس زیرو پریشر کے ساتھ قلات اور مستونگ کے علاقے کو سپلائی کی جارہی ہے ۔ اس پر سوئی گیس انتظامیہ کوئی توجہ نہیں دے رہی بلکہ جان بوجھ کر ان علاقوں اور لوگوں کی شکایات کو نظر انداز کیا جارہا ہے جو ایک خوش آئند بات نہیں ہے۔ گیس کی انتظامیہ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ مستونگ اور قلات کو زیادہ بہتر طورپر گیس کی سپلائی کے لئے ایک بڑی پائپ لائن بچھائی جارہی ہے تاکہ لوگوں کی شکایات کا ازالہ جلد سے جلد ہوسکے ۔ ہم نے ان کالموں میں بارہا یہ مطالبہ کیا ہے کہ پائپ لائن اتنی بڑی اور وسیع ہو کہ پورے وسطی بلوچستان کو سوئی گیس سپلائی کی جا سکے ۔ خضدار اور اس کے آس پاس کے علاقے سی پیک کے حوالے سے زبردست صنعتی اور تجارتی ترقی کا مرکز بننے والے ہیں اس لئے سوئی گیس کمپنی فوری طورپر گیس پائپ لائن کو خضدار تک توسیع دے تاکہ ترقی کے لئے بنیادی ڈھانچہ موجود ہو ۔ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سوئی گیس کی انتظامیہ نہ صرف مستونگ اور قلات میں گیس پریشر کا مسئلہ حل کرے بلکہ گیس پائپ لائن کو خضدار اور اس کے گردو نواح کے تمام اہم ترین علاقوں میں جہاں پر بڑے پیمانے پر معدنیات اور ماربل نکالنے کاکام ہورہا ہے وہاں پر گیس اور بجلی کی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ہم یہ امید کرتے ہیں کہ سوئی گیس کی انتظامیہ نہ صرف ان گزارشات پر غور کرے گی بلکہ ان پر فوری طورپر عمل کرے گی ہم وفاقی حکومت سے یہ پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وسطی بلوچستان کے تمام علاقوں میں گیس پہنچانے کے لئے ضروری وسائل کمپنی کو مہیا کرے تاکہ کم سے کم وسطی بلوچستان جہاں سخت سردی پڑتی ہے سوئی گیس کو بطور ایندھن فراہم کیا جائے۔ ہم وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری سے بھی یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ وفاقی حکومت کے ساتھ یہ معاملہ فوری طورپر اٹھائیں گے اور وزیراعظم کے توسط سے فنڈ حاصل کرکے پورے وسطی بلوچستان میں گیس کی سپلائی کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچہ بھی تعمیر کریں گے تاکہ بلوچستان میں ترقی کی رفتار تیز تر ہو ۔بہر حال یہ سوئی گیس انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ صارفین کی شکایات کو نہ صرف سنے بلکہ ان جائز شکایات کو دور بھی کرے تاکہ قلات اور مستونگ کے گھریلو صارفین کو وافر مقدار میں گیس فراہم ہو تاکہ وہ سکون اور اطمینان سے کم سے کم گھرمیں کھانا پکاسکیں، ان شکایات پر فوری توجہ کی ضرورت ہے ہم وفاقی پارلیمان میں بلوچستان کے اراکین اسمبلی اور سینٹ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو پارلیمان کے اجلاس میں ضرور اٹھائیں اور حکومت پر زور دیں کہ وہ وسطی بلوچستان کے پورے خطے کو بنیادی ڈھانچہ فراہم کریں اور ان میں سرفہرست گیس اور بجلی کی فراہمی شامل ہو ۔ سوئی گیس کی انتظامیہ پر یہ دباؤ بر قرار رکھا جائے تاکہ ان کو یہ ہمت نہ ہو کہ وہ بلوچستان کے معاملات نظر انداز کریں یا یہاں کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کریں ۔
بلوچستان میں گیس کی لوڈشیڈنگ
وقتِ اشاعت : August 2 – 2016