|

وقتِ اشاعت :   August 2 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان کے ڈسٹرکٹ اور میونسپل کمیٹیوں کے چیئرمینوں نے کہا ہے کہ مخلوط حکومت اور بیوروکریسی بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کے حق میں نہیں ہے اراکین اسمبلی کا کام نالیاں بنانا نہیں بلکہ قانون سازی کرنا ہے بجٹ 2016-17ء میں ضلعی ہیڈکواٹرز اور ڈویژنل ہیڈکواٹرز کیلئے جو فنڈ مخصوص کئے گئے ہیں اس فنڈ کو متعلقہ میونسپل کمیٹیوں کے ذریعے خرچ کیا جائے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں آج بلوچستان اسمبلی کے سامنے صوبہ کے تمام ڈسٹرکٹ چیئرمینوں‘ میونسپل کمیٹی چیئرمینوں ‘ میئر اورڈپٹی میئر کوئٹہ احتجاجی مظاہرہ کریں گے ڈسٹرکٹ چیئرمین پشین محمد عیسیٰ روشان ‘ میونسپل کمیٹی پشین کے چیئرمین سید شراب آغا ‘ خاران میونسپل کمیٹی کے چیئرمین نورالدین نوشیروانی ‘ مسلم باغ میونسپل کمیٹی کے چیئرمین سردار آصف سرگڑھ نے دیگر چیئرمینوں کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال میں صوبہ کے تمام ڈسٹرکٹ چیئرمین و میونسپل کمیٹی چیئرمین نے سابقہ وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ‘ موجودہ وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری اور چیف سیکرٹری سے ملاقاتیں کیں اور اپنے مسائل سے آگاہ کیا ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود ہمارے مسائل حل نہ ہوئے اور نہ ہی بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیئے گئے آئین پاکستان کے آرٹیکل 140-A کے تحت تمام بلدیاتی اداروں کو انتظامی ‘ مالی اور قانونی اختیارات دیئے جائیں تمام بلدیاتی اداروں کے میئر ڈپٹی میئر چیئرمین وائس چیئرمین اور ممبران کے اختیارات مراعات پروٹوکول سیکورٹی وغیرہ کا تعین دوسرے صوبوں کے مطابق کیا جائے لوکل گورنمنٹ گرانٹس کمیشن کے چیئرمین وزیرخزانہ کے بجائے وزیر بلدیات مقرر کیا جائے بلدیاتی اداروں کو دی جانیوالی گرانٹ کی تقسیم کا طریقہ کار واضح کیا جائے انہوں نے کہا کہ ڈویژنل کوآرڈنیشن کمیٹی کی تحلیل اور اس کی جگہ پر متعلقہ لوکل کونسل سے ترقیاتی وغیرترقیاتی بجٹ کی حتمی منظوری بلوچستان لوکل گورنمنٹ ٹیکس 2010ء میں میونسپل کارپوریشنوں کے چیئرمینوں ‘ وائس چیئرمینوں کے عہدوں کے ناموں میں ترمیم کرکے میئر اور ڈپٹی میئر رکھا جائے انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہم اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیں گے بلوچستان میں بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہ دینے میں مخلوط حکومت اور بیوروکریسی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اورہمارے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں آج بلوچستان اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا جس کے بعد آئندہ کا لائحہ بھی طے کیا جائے گا ۔