|

وقتِ اشاعت :   August 2 – 2016

کوئٹہ : کمیٹی کے آج کے اجلاس میں بھی چیئرمین این ایچ اے ، وزارت مواصلات، وزارت خزانہ ،منصوبہ بندی کمیشن کے اعلیٰ حکام پاک چین اقتصادی راہداری پر چیئرمین قائمہ کمیٹی کے سوالات کا اطمینان بخش جواب نہ دے سکے ۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی مواصلات کے چیئرمین سینیٹر داؤد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سینیٹ میں پیش کردہ 2013 کی رپورٹ کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر کام کی رفتا رجوں کی توں ہے وزیراعظم کی اے پی سی میں مغربی روٹ کی ترجیح صدر مملکت کی مشترکہ اجلاس میں یقین دہانی پر عمل نہیں ہورہا ۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے سہراب تک مغربی روٹ کا منصوبہ 2018کی بجائے 2050 تک بھی مکمل ہوتا نظر نہیں آتا۔حقائق چھپانے کی کوشش کا نقصان با لآخر سب کو اٹھانا ہو گا لیکن اسوقت تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی اپنی بساط سے بڑھ کر اپنا فرض ادا کر رہی ہے اور کرتی رہیگی۔لیکن مرکزی حکومت اور ان کے اتحادی جس طرح مغربی روٹ کے بارے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں ۔ انہیں تاریخ معاف نہیں کریگی۔سی پیک کے مغربی روٹ پر این ایچ اے نے ابھی تک لینڈایکوزیشن کیلئے مانگے گئے 56 ارب روپے کی مد میں نہ تو بجٹ میں رقم رکھی گئی ہے اور نہ ہی وزارت خزانہ اور منصوبہ بندی وزارتوں کو علم ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان سے سہراب پر کام نہیں ہو رہا اور کہا کہ جس طرح مشرقی روٹ پر کام میں تیزی ہے اس طرح ہی مغربی روٹ پر بھی عملی طور پر کام ہوتا نظر آنا چاہیے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مشرقی روٹ پر 2013 میں کی گئی فیزبلیٹی رپورٹ ڈیڑھ سال میں مکمل کر لی گئی لیکن مغربی روٹ پر ڈیزائن فیزبلیٹی رپورٹ اور پی سی ون زیر التواء ہیں اور چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ژوب سے مغل کوٹ تک دو لائن شاہراہ کے 1.2 بلین ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے2004کے فنڈز ہیں جس کے بارے میں ہر اجلاس میں تکمیل کرنے کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کوئٹہ چمن روڈ کافی عرصہ سے تاخیر کا شکار ہے تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے 30 دسمبر 2015 آخری تکمیلی تاریخ تھی اب اگست2016 آگیا ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی داؤد خان اچکزئی نے ہدایت دی کہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو لینڈ ایکوزیشن کے لئے دوبارہ خطوط لکھے جائیں اور15اگست کے اگلے اجلاس میں رپورٹ دی جائے۔ تخت بھائی/ بائی پاس کو 30 اگست تک مکمل کر کے رپورٹ دی جائے ۔ چیئرمین کمیٹی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ٹول پلازوں پر ای ٹیگ کی جگہ ایم ٹیگ لگا کر من پسند ٹول ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ۔ کمیٹی کی ہدایت کے باوجود مردان سے اسلام آباد کے سفر کے دوران ایک طرف سے 110 روپے کی بجائے 150 روپے لیا جا رہا ہے۔ اگلے اجلاس میں ایف ڈبلیو او کے تمام ٹول پلازوں پر ٹول ٹیکس کی تفصیلات فراہم کی جائیں جس پر چیئرمین این ایچ اے نے تسلیم کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کو چار حصوں فوری ، قلیل مدت ، درمیانی مدت اور طویل مدت میں تقسیم کیا گیا ہے ڈی آئی خان ، سہراب تک کا حصہ 2020 میں مکمل ہوگا ۔ چیئرمین این ایچ اے شاہد اشرف تارڑ نے کہا کہ بسیمہ خضدار کو سی پیک میں شامل کر لیا گیا ہے۔ کے کے ایچ کی147 کلو میٹر مسنگ روڈ بھی شامل کر لی گئی ہے ۔وزیراعظم نے حکم دیا ہے کہ اگر چین کی طرف سے تاخیر ہو پھر بھی ڈی آئی خان ژوب روڈ پر کام تیز کیا جائے ۔ 100 میٹر کے رائٹ آف وے کے علاوہ الائمنٹ اور کاسٹنگ بھی کر لی گئی ہے ۔90 فیصد سرکاری زمین کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور کہا کہ ایشین ڈویلپمنٹ بنک اور چین نے خضدار تک دو رویہ سٹرک کی فنڈنگ کا وعدہ کر لیا ہے ۔کورین کمپنی فیزبلیٹی بنا رہی ہے کیرک کے تحت خضدار سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے چمن پر کام شروع کیا جائے گا۔سہراب سے کوئٹہ چمن کا پی سی ون تیار ہے ڈی آئی خان سہراب روڈ پر فیزبلیٹی کے بعد پی سی ون اکنک سے منظور ہوگا ۔اور آگاہ کیا کہ این ایچ اے نے 293 ارب روپے کی بچت کی ہے ۔چیئرمین کمیٹی نے پوسٹل سروسز میں اصلاحات کیلئے پچھلے اجلاسوں میں دی گئی سفارشات و ہدایات پر ابھی تک عمل نہ کرنے کے حوالے سے بھی سخت ناراضگی کا اظہا رکیا اور ہدایت دی کہ15اگست تک سفارشات پر من و عن عمل کر کے اگلے اجلاس میں رپورٹ پیش کی جائے اور کاغان بابو سر روڈ کے پیٹی ٹھیکداروں کو جلد واجبات ادا کیے جائیں پوسٹل سروسز کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ وزارت خزانہ نے کاسٹنگ ریٹ پر اعتراضات لگائے تھے ڈیفنس ، سیونگ ، ریگولر انکم سریٹفکیٹ 2007 سے معطل ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ کاسٹنگ فرم وزارت خزانہ ، وزارت منصوبہ بندی آپس میں مل بیٹھ کر معاملات طے کریں ۔