|

وقتِ اشاعت :   August 4 – 2016

کوئٹہ : عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ صوبہ بھر بلخصوص قلعہ عبداللہ ‘ چمن میں بدامنی اغواء برائے تاوان اپنے عروج پر ہے ڈاکٹر غلام محمد تنولی کو دن دیہاڑے شہر کے وسعت سے اغواء کرکے امن وامان سے متعلق کئے گئے وعدے اور میڈیا میں سستی شہرت زمینی حقائق کے برعکس ہیں چمن شہر میں سرشام چوری ‘ راہزنی کی وارداتیں سرزد ہو رہی ہیں جبکہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ ٹس مس نہیں ہورہی دوسری جانب پاک افغان بارڈر پر تاجر پیشہ افراد محنت مزدوری کرنے والوں پر روزگار کے دروازے بند کئے جارہے ہیں سمگلنگ کی روک تھام کے بہانے ہزاروں خاندانوں کے چولہے بجھ گئے اور یہاں کے غریب مزدور کار پیشہ افراد نان شبینہ کے محتاج ہو کررہ گئے اگر حکومت ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو عوامی نیشنل پارٹی راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوجائے ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے باچا خان مرکز چمن میں عوامی نیشنل پارٹی تحصیل چمن کابینہ ‘ صوبائی کونسل کے اراکین اور ضلعی کابینہ کے اراکین کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس زیرصدارت گل باران افغان منعقد ہوا اجلاس میں امن وامان کی گھمبیر صورتحال اغواء برائے تاوان ‘ ٹارگٹ کلنگ ‘ چوری راہزنی ‘ ڈکیتی کی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ پاک افغان بارڈر تاجر پیشہ افراد اور محنت مزدوری کرنے والے غریب عوام کو مختلف بہانوں کے ذریعے تنگ کیا جارہا ہے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کل بروز جمعہ پانچ اگست دیگر جماعتوں کیساتھ ملکر اغواء کاروں چوروں راہزنوں کے سماج دشمن عملیات اور صوبائی حکومت و ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کوتاہی کیخلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا اجلاس میں بنیادی یونٹوں اور کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ مظاہرے میں بھرپور شرکت کریں دریں اثناء صوبائی صدر آج حلقہ 12 میں جلسہ اور علاقائی دفتر کا افتتاح کریں گے ۔