|

وقتِ اشاعت :   August 5 – 2016

کوئٹہ : انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان احسن محبوب نے کہا ہے کہ پولیس کے افسران اور جوانوں نے اپنے خون کا نذرانہ دیکر امن کی بحالی کو یقینی بنایا ہے شہداء ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں ہم مرکے اورمار کر دہشت گردی کوروک کر صوبے کو امن کا گہوارہ بنائیں گے اس عہد کیساتھ جنگ لڑرہے ہیں تاکہ معاشرے کو اس سے نجات دلائی جاسکے گزشتہ 10 سالوں کے دوران پولیس کے افسران سمیت 700 سے زائد جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک بھر کی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس یوم شہداء کے موقع پر کوئٹہ پولیس لائن میں منعقدہ تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی بلوچستان کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ ڈاکٹر مجیب الرحمان‘ ایڈیشنل آئی جی محمد ایوب قریشی ‘ ڈی آئی جی اسپیشل برانچ عبدالرزاق چیمہ ‘ ڈی آئی جی شکیل احمد درانی ‘ آر پی او ڈی آئی جی کوئٹہ چوہدری منظور سرور ‘ ایس ایس پی انویسٹی گیشن ظہور احمد آفریدی ‘ ایس ایس پی کاؤنٹر ٹیراریزم ڈیپارٹمنٹ اعتزاز احمد گورایہ، ڈائریکٹر پبلک ریلیشن شہزادہ فرحت جان احمد زئی سمیت دیگر پولیس افسران اہلکاروں اور پولیس کے شہداء کے خاندانوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی آئی جی پولیس احسن محبوب نے کہا کہ پولیس کے شہداء نے اپنی جانیں قربان کرکے اس معاشرے اور ملک کیلئے ایک نمونہ پیش کیا ہے کیونکہ ان کا مقصد عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناکر اس دھرتی کو دہشت گردی سے پاک کرنا تھا انہوں نے اپنی جان قربان کرکے ایک مثال قائم کی ہے تاکہ دہشت گردی کو روکا جاسکے انہوں نے دہشت گردوں کے وار کو اپنے سروں اور سینوں سے روکنے کی کوشش کی اور جام شہادت نوش کیاہے شہداء نے اپنی جان قربا ن کے ملک قوم اور محکمہ کا نام روشن کیا ہے شہداء ہم سب کا سرمایہ ہیں ہم آج ان کی یاد میں اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ ان کی روح کو خراج عقیدت پیش کرسکیں اور بہت جلد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کی یادگار کے طورپر منانے کا ایک بڑا پروگرام بنارہے ہیں انہوں نے کہا کہ جو ساتھی شہید ہوئے ہیں یا دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ہیں انہیں ہم سے کوئی جدانہیں کرسکتا کیونکہ شہید مرتا نہیں بلکہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم شہریوں اور ملک کے تحفظ کو یقینی بنارہے ہیں اور دہشت گرد پہلے شہریوں اور اب ہمیں ماررہے ہیں لیکن ہم مرکے انہیں روکیں گے بحیثیت پولیس فورس کے کمانڈر شہریوں اور صوبہ کے امن کو یقینی بنائیں گے تاکہ اس صوبہ کے امن کو یقینی بنایاجاسکے انہوں نے کہا کہ جومائیں‘ بہنیں یا شہداء بیوہ یہاں پر موجود ہیں ہم ان کے اس غم میں برابر شریک ہیں اور شہداء کو کسی صورت بھول نہیں سکتے کیونکہ انہوں نے صوبہ میں اپنے سینوں پر دہشت گردی کے وار کو برداشت کرکے قربانی دی ہے جسے ہمیں رائیگاں نہیں جانے دیں گے انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کے مسائل کو کم کریں گے جو بھی ہمارے بس میں ہے اس سے ان کی مشکلات کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے کیونکہ میڈیا کے ذریعے میرا یہ پیغام بلوچستان کے طول و عرض میں موجود اپنے فرائض منصبی انجام دینے والے ہر اس پولیس جوان تک پہنچے گا اس لئے ہم میڈیا کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی بی سی کمانڈنٹ ڈاکٹر مجیب الرحمان نے پولیس کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید مرتا نہیں بلکہ ہمیشہ زندہ رہتاہے پولیس کے شہداء نے اپنی جانیں قربان کرکے ہمیں ایک سیدھا راستہ دکھایا ہے کہ پولیس نے دہشت گردوں کے سامنے جھکنے کی بجائے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے بے شک اس میں اپنی جان کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے آج کی تقریب میں پولیس کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے لواحقین کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے سپوتوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی شہداء ڈے کے حوالے سے پولیس گرائمر سکول کے طلباء و طالبات سمیت پولیس کے جوانوں نے دہشت گردی کے حوالے سے مختلف ٹیبلوں پیش کئے۔