|

وقتِ اشاعت :   August 5 – 2016

کوئٹہ : صوبائی وزیر داخلہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماء میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں نے کوئٹہ میں عالمو چوک، سریاب روڈلوکل بس پر بم دھماکے سمیت مختلف علاقوں میں ہونیوالے دھماکوں میں ملوث کالعدم تنظیم، یو بی اے کے 6 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں را فنڈنگ لشکر این ڈی ایس کے ساتھ مل کر دہشتگردی کر کے ہمارے معصوم لو گوں کو کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں جن کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے تاکہ بلوچستان کو امن کا گہوارہ بنا کر نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سول سیکرٹریٹ میں سکندر جمالی آڈیٹوریم میں صوبائی حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ ، سیکرٹری داخلہ اکبر حریفال،انسپکٹر جنرل بلوچستان احسن محبوب کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر ایس ایس پی کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ اعتزازاحمد گورایہ ،ایس ایس پی انوسٹی گیشن ظہور احمد آفریدی بھی موجود تھے صوبائی وزیر داخلہ سر فراز احمد بگٹی نے بتایا کہ کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں جس میں عالمو چوک پر بم دھماکے میں35 افراد زخمی جبکہ سریاب روڈ لوکل بس پر بم دھماکے میں11 شہری شہید اور22 سے زائد زخمی ہو ئے اس دھماکوں سمیت مختلف دہشتگردی اور دھماکوں کی کالعدم تنظیم یونائٹیڈ بلوچ آرمی نے ذمہ داری قبول کی تھی جس پر کوئٹہ پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں نے گزشتہ روز کوئٹہ کے نواحی علاقے شابو اور مشرقی بائی پاس پر دو مختلف کارروائیاں کر تے ہوئے ان دھماکوں میں ملوث کالعدم تنظیم یو بی اے کے6 ملزمان عبدالباری عرف استاد جس نے سریاب روڈ پر لوکل بس سمیت تین دھماکے کئے اس کے علاوہ افتخار ندیم عرف رہبر نے جس نے سریاب روڈ پر سائیکل بم دھماکہ بعد میں عالمو چوک پر دھماکہ کیا جس میں 6 افراد جاں بحق34 زخمی ہو گئے فیضان نور عرف قمبر عرف مزار ،غلام سرور عرف گبر ،جاوید عرف جہانزیب نے 4 دھماکے کئے ، اعجاز احمد نے بھی 4 بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے تمام ملزمان کو گرفتار کرکے تحقیقات شروع کر دی ہے سرفراز احمد بگٹی بتایا کہ گرفتار ملزمان نے تفتیش کے دوران تسلیم کیا ہے کہ اسپلنجی میں یو بی اے کا کمانڈر سرفراز بنگلزئی کام کر رہا ہے جو ہمیں سامان فراہم کر تا ہے انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بلوچ قوم کو گمراہ کرکے بلوچیت اور لو گوں کو ما رنے کیلئے جو تحریک چلائی جا رہی ہے وہ کسی صورت بھی بلوچ قوم کو قبول نہیں کیونکہ ان تمام واقعات اور دھماکوں کی تمام سیاستدان مذمت کر رہے ہیں کہ اس میں نا حق بلوچ قوم کے لو گوں کو مارا جا رہا ہے اور وہ اس سے جان چھڑا نا چا ہتے ہیں کیونکہ اس تحریک کیلئے معصوم لو گوں کی قتل وغارت گیری جاری ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ یو بی اے جو کہ صوبے میں معصوم لو گوں کے علاوہ اب فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں ریاست جو کہ شہریوں کیلئے ماں اور باپ کا درجہ رکھتی ہے وہ موثر انداز میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کیساتھ مل کر ملک دشمن عناصر کے عزائم کو خاک میں ملا رہی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ا س وقت ہمسایہ ملک بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور این ڈی ایس جو کہ فنڈز دے کر پاکستان اور بلوچستان میں دہشتگردی کی وارداتیں کرواکر ملک کو غیر مستحکم کر نا چا ہتے ہیں جس میں نہیں ناکامی کا سامنا کر نا پڑھ رہا ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ مذاکرات کا عمل جاری ہے جس کی وجہ سے مزاحمتی تحریک اور فراری کیمپوں کے کمانڈروں سمیت دیگر لو گ سرنڈر کر کے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے ریاست کی حمایت کر رہے ہیں جوقابل دید عمل ہے انہوں نے کہا ہے کہ بم دھماکوں کی سیریز کم ہو رہی ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہم وار زون میں رہ رہے ہیں جہاں پر ملک دشمن عناصر پہلے عام شہریوں ، سٹیلرز ، ڈاکٹرز، اساتذہ سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لو گوں کو نشانہ بنا رہے تھے لیکن جب فورسز نے ان کے خلاف گھیرا تنگ تو انہوں نے فورسز جس میں فرنٹیئر کور، پولیس، لیویز ، بلوچستان کانسٹیبلری کو آسان ہدف سمجھ کر وار کر نا شروع کر دیا لیکن سیکورٹی ادارے ان کے ان عزائم کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم عوام تعاون سے جاری دہشتگردی کو ختم کرکے دم لیں گے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری فرنٹ لائن پر امن وامان کی بحالی کیلئے فورسز اور قانون نافذکرنیوالے اداروں کیساتھ مل کرکام کر رہے ہیں اور ہر محاذ پر حکومت فورسزکیساتھ کھڑی ہے انہوں نے کہاکہ فراری اپنے بہتر مستقبل کیلئے سرنڈر کرکے شامل ہو رہے ہیں ان کے سر براہ اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ہمراہ بیرونی ممالک میں بہتر زندگی گزارر ہے ہیں حالانکہ شامل ہونیوالوں کے ہاتھ ہمارے خون سے رنگھے ہوئے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ تھوڑی شورش باقی ہے اس کو ختم کر نے کیلئے موثر حکمت عملی کے ذریعے کم فورس استعمال کی جا رہی ہے ورنہ زیادہ فورس استعمال کرکے2 تین ہفتوں میں صفایا کیا جا سکتا ہے اگست کے مہینے میں یوم آزاد ی کے حوالے سے بلوچستان بھرمیں لو گ جوش وخروش سے اس دن کو منا نے کیلئے پروگرام منعقد کر تے ہیں اس لئے ان پروگراموں کو آسان ٹارگٹ بنا نے کی منصوبہ بندی کی اطلاع پر پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکار مشترکہ آپریشن کر تے ہیں تاکہ ملک دشمن عناصر کے عزائم کوخاک میں ملایا جا سکے جس میں کامیابیاں حاصل ہو تی ہے اس موقع پر پولیس کے یوم شہداء کے حوالے سے انسپکٹر جنرل پولیس بوچستان احسن محبوب نے ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ چار اگست کو ملک بھرکی طرح صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی پولیس کے شہداء کا ڈے منایا جا تا ہے اور آٹھ اگست کو پولیس سمیت دیگر قانون نافذکرنیوالے اداروں کیساتھ مل کر یوم شہداء ڈے منایا جا رہا ہے تقریب میں گرفتار ہونیوالے 6 دہشتگردوں کے ویڈویوں بیانات پر مشتمل سی ڈیز میڈیا کے نمائندوں کو دی گئیں۔