|

وقتِ اشاعت :   August 5 – 2016

واشنگٹن: امریکا میں خودساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے ترک مبلغ فتح اللہ گولن نے صدر رجب طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے الزام میں اپنے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے کے بعد ترکی کے عدالتی نظام پر شدید تنقید کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فتح اللہ گولن کا کہنا تھا ‘یہ بات واضح ہے کہ ترکی کا عدالتی نطام آزاد نہیں ہے اور یہ وارنٹ گرفتاری ترک صدر کی آمریت اور جمہوریت سے دوری کی ایک مثال ہے’۔

ترکی کی سرکاری اناطولو نیوز ایجنسی کے مطابق ‘گذشتہ ماہ 15 جولائی کو ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے الزام میں فتح اللہ گولن کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے’۔

تاہم گولن نے فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ‘ترکی کی عدالت کی جانب سے میرے وارنٹ گرفتاری کا اجراء مرے اسٹیٹس یا نظریات کو تبدیل نہیں کرسکتا’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں متعدد مرتبہ ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرچکا ہوں’۔

خیال رہے کہ ترکی میں گذشتہ ماہ 15 جولائی کی رات فوج کے ایک باغی گروپ کی جانب سے ملک میں بغاوت کی ناکام کوشش کے دوران جھڑپوں میں 246 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ترکی نے اس بغاوت کا الزام امریکا میں خودساختہ جلاوطنی کاٹنے والے ترک مبلغ فتح اللہ گولن پر عائد کیا تھا، تاہم گولن نے ان الزامات کی سختی سے تردید کردی تھی۔

فتح اللہ گولن، ترک صدر رجب طیب اردگان کے سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں اور ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی نے گولن کے اسکولوں کے نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔

واضح رہے کہ فتح اللہ گولن کی تحریک ‘حزمت’ کہلاتی ہے، جو صوفی ازم کی طرز پر مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کی تعلیم دیتی ہے، اس تحریک کے تحت امریکا، یورپ، ایشیا اور افریقہ میں سیکڑوں تعلیمی اور سماجی خدمات کے ادارے کام سرانجام دے رہے ہیں۔