|

وقتِ اشاعت :   August 9 – 2016

کوئٹہ : بلوچستان میں گزشتہ10 سالوں کے دوران 45 صحافی شہید ہوگئے ان میں سے 8 صحافی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے تفصیلات کے مطابق گذشتہ دس سال کے دوران ہلاک ہونے والے صحافیوں اور کمیرہ مینوں کی تعداد 45 ہوگئی ہے۔پیر کی صبح کوئٹہ شہر کے سول ہسپتال کے شعب حادثات کے داخلی دروازے کے باہر ہونے والے دھماکے میں نجی ٹی وی چینلوں کے 2 کیمرہ مین بھی شہید ہوئے۔شہید ہونے والے کیمرہ مینوں میں شہزاد یحی اور محمود خان شامل ہیں۔نجی ٹی وی چینل آج سے منسلک شہزاد یحی کا شمار کوئٹہ شہر کے انتہائی متحرک کیمرہ مینوں میں ہوتا تھا۔شہزاد یحی شادی شدہ تھے اور ان کے تین بچے تھے جن میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔وہ کرکٹ اور فٹ بال کے شوقین تھے اور اپریل کے مہینے میں صحافیوں کی دو ٹیموں درمیان ہونے والے کرکٹ کے مقابلے میں شہزاد یحی ایگلز الیون کے کپتان تھے۔اسی دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے دوسرے کیمرہ مین محمود نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے ساتھ وابستہ تھے۔محمود خان انتہائی محنتی تھے اور ان کی محنت کے نتیجے میں ان کو سکیورٹی گارڈ سے کیمرہ مین بنا دیا گیا تھا۔شہزاد یحی کے تین بچے تھے جن میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں بم دھماکے میں 92نیوز کے کمیرہ مین فتح گلاب اور دنیا نیوز کے سینئرر رپورٹر فریداللہ زخمی ہوئے ہیں۔بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے صحافیوں کی بھی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ہلاکتوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ 2008 کے بعد سے صحافیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر حماد اللہ سیاہ پاد نے بتایا کہ گذشتہ دس سالوں کے دوران بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کے واقعات میں مجموعی طور پر 45صحافی اور کیمرہ مین ہلاک ہوچکے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ان میں سے آٹھ صحافی اور کیمرہ مین بم دھماکوں میں جبکہ باقی ٹارگٹ کلنگ میں مارے گئے ہیں۔