کوئٹہ : صوبائی کورآرڈینیٹر پولیو ایمرجنسی سینٹرڈ اکٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ صوبے کے چار بڑے افغان مہاجرین کیمپس میں پولیو سے بچاؤ کے ٹیکوں کی مہم 15سے شروع ہو گی جو کہ 22اگست تک جاری رہے گی جس کے دوران 6830بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران چار ماہ سے تئیس تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤکے ٹیکے لگائے جائیں گے جس سے پولیو کے پھیلاؤ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ڈاکٹرسیف الرحمان کاکہنا تھاکہ 23ماہ سے کم عمر بچوں میں پولیو وائرس کی تشخیص کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جبکہ صوبے میں 85فیصد پولیو کیسز اسی عمر کے بچوں میں پائے گئے ہیں جس کی روک تھام کے صوبائی حکومت صوبے کے چار بڑے افغان مہاجرین کیمپس میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جائیں گے۔رواں سال بلوچستان میں اب تک صرف ایک پولیو کیس کوئٹہ میں سامنے آیا جہاں ڈھائی سالہ محمد اکرم میں پولیو وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ ڈاکٹر سیف الرحمان کا کہنا ہے کہ محمد اکرم میں پولیو وائرس کی تشخیص فروری کے ماہ میں ہوئی جس کی بنیادی وجہ اکرم پولیو سے بچاؤکے ٹیکوں سے محروم رہا۔ انہوں نے کہا کہ جن جن علاقوں میں بچوں کو پولیو وائرس سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے گئے ہیں وہاں سے پولیو کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی آپریشن تھیٹر کے مستقل پوائنٹس کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ صوبے میں کل 32ٹرانزٹ پوائنٹس ہیں جبکہ پانچ پاک افغان سرحدی علاقوں میں قائم کئے گئے ہیں جہاں مستقل بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے اور ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔ڈاکٹر سیف الرحمان اعادہ کیا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں جیت ہماری ہو گی جبکہ 15اگست سے شروع ہونے والی پولیو سے بچاؤ کے ٹیکوں کی مہم میں تمام اضلاع کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز اپنا بھر پور تعاون کریں۔ رواں سال ملک بھر میں 16پولیو کیسز سامنے آئے ہیں۔