واشنگٹن: امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حریف امیدوار ہیلری کلنٹن پر قاتلانہ حملے کے حوالے سے متنازع بیان دے کر ایک بار پھر شدید تنقید کی زر میں آگئے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق واشنگٹن میں انتخابی ریلی سے خطاب میں ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘ہیلری کلنٹن آئین کی دوسری ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہیں، اگر وہ صدر بنیں اور انہیں سپریم کورٹ کے ججز کی تقرری کا موقع ملا تو آپ لوگ کچھ نہیں کرسکیں گے’۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘دوسری ترمیم کے حامی ضرور کچھ کریں گے اور مجھے نہیں معلوم اس روز کیا ہوگا لیکن اتنا ضرور بتادوں کہ وہ ایک ہولناک دن ہوگا’۔
واضح رہے کہ دوسری ترمیم کے تحت امریکی شہریوں کو اپنے دفاع کیلئے اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ الزام ہے کہ ہیلری کلنٹن اس ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہیں تاہم ہیلری اس الزام کو مسترد کرتی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مذکورہ بیان کے بعد تو سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا ہوگیا، ہیلری کے حامیوں نے اس بیان کو ‘قتل کی دھمکی’ قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہیلری نے دوسری ترمیم ختم کی تو اسلحہ رکھنے کے حامی گروہ انہیں گولی مار دیں گے۔
ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے منیجر روبی موک نے ٹرمپ کے بیان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ‘ٹرمپ جو کہہ رہے ہیں وہ انتہائی خطرناک ہے، ایک شخص جو امریکا کا صدر بننے کا خواہاں ہو اسے کسی بھی صورت میں تشدد کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔
کنیکٹی کٹ کے سینیٹر کرس مرفی کا کہنا ہے کہ اس بیان کو محض سیاسی غلطی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے یہ قتل کی دھمکی ہے جس کے بعد کسی قومی سانحہ کے رونما ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
جب ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی کیمپ سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ‘ٹرمپ کا مطلب یہ تھا کہ دوسری ترمیم کے حامی افراد ہیلری کلنٹن کے خلاف ووٹ دیں گے’۔
نیویارک کے سابق میئر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب ترین حامیوں میں سے ایک روڈی گیولیانی نے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ‘ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ لوگ ہیلری کے خلاف ووٹ دینے کی طاقت رکھتے ہیں’۔
بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹریو میں کہا کہ ہال میں موجود کسی بھی شخص نے میرے بیان کا یہ مطلب نہیں نکالا ہوگا جو میڈیا پر چل رہا ہے، ہیلری لوگوں سے اسلحہ چھین کر انہیں اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ کرنا چاہتی ہیں’۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ دار امریکی سیکرٹ سروس نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کیا اور کہا کہ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا علم ہے۔
امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق سربراہ مائیکل ہیڈن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ‘ آپ صرف اس بات کیلئے ذمہ دار نہیں کہ آپ نے کیا کہا بلکہ اس کے بھی ذمہ دار ہیں کہ لوگوں نے کیا سنا۔
امریکی سینیٹر الزبتھ وارین نے بھی ٹرمپ پر تنقید کی اور کہا کہ وہ ایک بزدل انسان ہیں اور ان سے یہ بات ہضم نہیں ہورہی کہ وہ ایک عورت سے شکست کھارہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ امریکی شہریوں کے اسلحہ رکھنے کے حق کی حمایت کرتے رہے ہیں، ان کی انتخابی مہم متنازع بیانات سے بھری پڑی ہے.
انہوں نے مسلمانوں کو امریکا میں داخل ہونے سے روکنے کی بات کی، میکسیکو کی سرحد پر فصیلوں کی تعمیر کے حوالے سے بیان دیا اور نیٹو ممالک کے خلاف بھی باتیں کرچکے ہیں۔