کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری سے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل سہیل امان نے ملاقات کی اور سانحہ کوئٹہ پر دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے پاک فضائیہ کی جانب سے بلوچستان کے عوام اور شہداء کے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ائیر چیف مارشل نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ صرف بلوچستان کے عوام کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے باعث غم ہے اور ہم سب سانحہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسردہ ہیں۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت دہشت گرد قوتیں بلوچستان میں سرگرم عمل ہیں اوریہاں کے چند لوگ ان کے مہرے بنے ہوئے ہیں۔ دشمن نے ہم پر کاری وار کیا ہے تاہم ہم اس کا منہ توڑ جواب دیں گے ، وزیراعلیٰ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہمت اور جواں مردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردی کی کئی ایک کاروائیوں کو رونما ہونے سے قبل ہی ناکام بنایا ہے۔ سول ہسپتال بم دھماکے میں فرائض کی انجام دہی میں ایک ایس پی بھی زخمی ہوا ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دھماکے کے زخمیوں کا حوصلہ اور ہمت قابل فخر ہے جنہوں نے وزیراعظم اور آرمی چیف سے دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اپنے زخمی ہونے کا غم نہیں حکومت دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اس موقع پر پاک فضائیہ میں بلوچستان کے نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ بھرتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے طے کرتے ہوئے اس حوالے سے صوبائی حکومت اور پاک فضائیہ مشترکہ کوششیں کریں گی، ائیرچیف مارشل نے بتایا کہ حال ہی میں افسر کیڈر میں بلوچستان کے 50امیدوار اور ائیر مین کیڈر میں 120 امیدوار بھرتی ہوئے ہیں جو تربیت کے مراحل میں ہیں۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ جیسے واقعات دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم و حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتے، ہم بزدل نہیں یہ جنگ ہم سب نے مل کر لڑنی ہے ، وکلاء برادری اور معاشرے کے تمام مکاتب فکر کے لوگ ہمارے ہاتھ مضبوط کریں، دہشت گرد ظالم لوگ ہیں اگر انہیں آج سختی سے نہ روکا گیا تو یہ مزید لوگوں کا ناحق خون بہائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے بار روم میں سینئر وکلاء سے ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزراء، اراکین صوبائی اسمبلی ،چیف سیکریٹری بلوچستان اور آئی جی پولیس بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں نے میرے خاندان کو بھی نشانہ بنایا لیکن میرے ساتھ انصاف نہیں ہوا، اس وقت سب نے کہا کہ یہ نواب ثناء اللہ خان زہری کے ذاتی مسئلہ ہے، اگر اس وقت دہشت گردوں کے مزموم عزائم کا احساس کرتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کی جاتی تو شاید حالات اس نہج پر نہ پہنچتے، میں اپنے پیاروں کے جدا ہونے کے کرب سے گزرا ہوں لہذا مجھے شہداء کے لواحقین کے کرب کا احساس ہے میں جہاں بھی تعزیت کے لیے گیا ہوں میری آنکھیں نم ہوئی ہیں، شہداء اور زخمی میرے بھائی اور بیٹے ہیں ان کے لواحقین کو بے آسرا نہیں چھوڑوں گا ، شہداء کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا اور دہشت گردی کی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا، وزیراعلیٰ نے کہاکہ شہید وکلاء کے لواحقین کے لیے پیکج کوئی احسان نہیں یہ ہماری ذمہ داری اور فرض ہے جسے ہم نبھا رہے ہیں، ہم خودار لوگ ہیں اور اپنی حیثیت کے مطابق ورثاء کی بھرپور مدد اور معاونت فراہم کریں گے، انہوں نے کہا کہ ہم بزدل نہیں ہمارے آباؤ اجداد نے اس سرزمین کے لیے گردنیں کٹوائیں، ایک جانب پر شیئن ایمپائر تھے اور دوسری جانب انگریز سامراج لیکن ہمارے بزرگوں نے اس سرزمین کو بچا کر رکھا، انہوں نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ 8اگست 2016 میرے لیے ایسا ہی ہے جیسے 16اپریل 2013 کے سانحہ کو دہرایا گیا ہو جس میں میرے بچے شہید ہوئے تھے، ہمیں ناحق مارا اور شہید کیا گیا ہے، لیکن بالآخر فتح حق کی ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے شہداء کے ورثاء اور زخمی وکلاء کے عزم اور حوصلے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوبے کی روایات اور ہمارا سرفخر سے بلند کر دیا ہے، اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینئر وکیل علی احمد کرد نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ نے بلوچستان بار کو اجاڑدیا ہے اوراب یہاں کچھ ہی وکیل رہ گئے ہیں، تاہم ہمارا عزم ہے کہ ہم شہداء کے بچوں کی نگہداشت کریں گے ، انہوں نے شہید وکلاء کے ورثاء کے لیے وزیراعلیٰ کی جانب سے اعلان کردہ مراعات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ وزیر اعلیٰ کا بڑا پن ہے کہ انہوں نے انسانی ہمدردی اور احساس ذمہ داری کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے ورثاء کی داد رسی کی ، چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ نے موقع پر موجود وکلاء کو ورثاء کے لیے اعلان کی گئی مراعات سے آگاہ کیا اور یقین دلایا کہ اس پر جلد عملدرآمد کا آغاز ہوگا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے جونیئر وکلاء کی صلاحیتوں اور استعداد کار میں اضافہ کے لیے بھی ایک جامع پلان مرتب کیا ہے،جس کے تحت انہیں قانون کے شعبہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھجوایا جائیگا۔ سینئر وکلاء نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزراء کی بارآمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔