|

وقتِ اشاعت :   August 15 – 2016

کوئٹہ: عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہاہے کہ پشتونوں کی لاشیں گرانے اور پشتون وطن میں خونی کھیل کاسلسلہ بند ہوناچاہئے ،ورنہ اس کا نقصان پھر سب کو بھگتنا ہوگا ،سانحہ کوئٹہ سے پشتونوں اور بلوچوں کے گھروں میں صف ماتم بچھا ہواہے ،ناکام خارجہ وداخلہ پالیسیوں کے باعث سانحہ کوئٹہ جیسے واقعات رونماہورہے ہیں اگر اب بھی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کیاگیا تو تمام تر سنگین صورتحال کے ذمہ دار اس ملک کے پالیسی ساز ہونگے ۔پشتونوں اوربلوچوں کو مل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کاوقت آگیاہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے مردہ کاریز چمن میں اے این پی کے صوبائی صدر اصغرخان اچکزئی کی رہائش گاہ پر ان کے چھوٹے بھائی عسکر خان اچکزئی ایڈووکیٹ کی سانحہ کوئٹہ میں شہادت پر فاتحہ خوانی اور تعزیت کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر اے این پی کے بزرگ رہنماء حاجی غلا م محمدبلور ،سینیٹر باز محمدخان ،سینیٹر شاہی سید آفرا سیاب خٹک ،اے این پی کے قائد اسفند یار ولی خان کے صاحبزادے ایمل ولی خان بھی ان کے ہمراہ تھے جنہوں نے اصغر خان اچکزئی سے تعزیت وفاتحہ خوانی کی اس موقع پر انجینئر زمرک خان اچکزئی ،حاجی نظام الدین کاکڑ،سینیٹرداؤد خان اچکزئی ،چیئرمین ملک عثمان اچکزئی ،ڈسٹرکٹ چیئرمین کوئٹہ ملک نعیم بازئی ،اصغر علی ترین ،میر علی آغا،جاویدکاکڑ ودیگر رہنماء بھی موجود تھے ۔میاں افتخار حسین نے سانحہ کوئٹہ میں اصغرخان اچکزئی کے چھوٹے بھائی عسکرخان اچکزئی کی شہادت پر غم اوررنج کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایسے دکھ اور غم کے واقعات میں متاثرہ خاندانوں کیساتھ دو کام ہوتے ہیں ایک کسی غم زادہ انسان کو یہ غم گرا دیتاہے یاپھر ایسے مضبوط ومستحکم اعصاب کا مالک بنادیتاہے جو ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوتا ہے ،اصغر خان کے اس غم میں ہم برابر کے شریک اور ساتھ کھڑے ہیں ،ہم ایسے غم اور درد کے لمحات سے گزرے ہیں ایک لمحہ وہ بھی تھا جب میں نے اپنے اکلوتے بیٹے کا جنازہ اٹھایا مگر اس کے باوجود میں نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا اور آج بھی اسی عزم کیساتھ کھڑا ہوں ۔ہمارے ساتھ اس خونی کھیل کاپہلا دن نہیں ہے ایک عرصے سے ہماری سرزمین پر اس خونی کھیل کاسلسلہ چلا آرہاہے افغانستان کے بعد ہمارے قبائلی علاقے ،خیبرپشتونخوا اوراب یہ جنگ وخونی کھیل کو یہاں کے پشتون علاقوں بلوچستان کے طول وعرض میں منتقل کردیاگیاہے ،سول ہسپتال کوئٹہ میں یہ واقعہ بڑی پلاننگ کیساتھ رونما ہوا پہلے وکلاء کے صدر کو ٹارگٹ کرکے پھر ہسپتال میں خودکش حملے کے ذریعے خون کی ہولی کھیلی گئی جس میں بڑی تعداد میں وکلاء اور شہری شہید ہوئے اس واقعہ نے ہمارے قابل اوراچھے ساتھیوں کو ہم سے چھین لیا جن کی خلاء مدتوں تک پورا نہیں ہوسکتا ،انہوں نے کہاکہ اس ملک میں جب تک خارجہ اور داخلہ پالیسیاں دوسروں کی مفادات کیلئے بنتی رہے گی تو یہ خونی کھیل ختم نہیں ہوگا اور پھر ہمارے بھی جنازے اٹھیں گے ،آرمی پبلک سکول کے بعد بھی ان کی خارجہ وداخلہ پالیسیاں نہیں بدلی ہے اور ان ناکام پالیسیوں کے باعث آج ہر شہر اورہرگلی میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے ،اگر پالیسیاں نہیں بدلی گئی تو پھر آنے والے دنوں میں تمام تر حالات کے ذمہ دار ان پالیسیوں کے پالیسی ساز ہونگے ،جب ان سے پوچھاگیا کہ پشتون وطن میں دہشت گردی کے واقعات بالخصوص سانحہ کوئٹہ کے بعد پشتونوں نوجوانوں کی جانب سے پارلیمانی سیاست پر مختلف سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ یہ پشتونوں کے مسئلے کا حل نہیں ہے ،اس کے جواب میں میاں افتخار حسین نے کہاکہ پشتون وطن سے دہشت گردی ختم کرنے کیلئے جہاں جوش کی ضرورت ہے وہاں ہوش کی بھی ضرورت ہے ،پشتون نوجوانوں کے جذبات کی قدر کرتاہوں لیکن اس وقت ہمیں انہیں پارلیمان کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہم باچاخان کے نقش قدم پر چل کر ہی ایک پرامن طریقے سے اپنے وطن سے دہشت گردوں کو ختم کیاجاسکے ،بعض لوگوں میں اس حوالے سے زیادہ جذبات پائے جاتے ہیں ،ان کو بھی چاہئے کہ وہ ایسے حالات میں ہوش سے کام لیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے بہنوں ،بیٹوں ،ماؤں اور غریبوں کے بہت جنازے اٹھائیں اورجنازے اٹھا اٹھا کر اب ہم تھک چکے ہیں ہمارے معصوم لوگوں کی لاشیں گرانے کا سلسلہ اب بند ہوناچاہئے ورنہ اس جنگ میں پھر سب کا بہت نقصان ہوگا ۔وزیر ستان اورقبائلی علاقوں میں آپریشن کیاگیا لاکھوں پشتونوں کو اس آپریشن کے نام پر بے گھر کردیاگیا مگر پنجاب میں 70سال سے جو دہشت گرد تنظیمیں وجود رکھتی ہیں ان کیخلاف کارروائی نہیں کی جارہی یہ دہشت گرد تنظیمیں چندے لے رہی ہے لوگوں کو دہشتگردوں کی ٹریننگ بھی دے رہی ہے لہٰذا اب وقت آگیاہے کہ پنجاب میں بھی دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کرکے ان کے اڈوں کو ختم کیاجائے ،انہوں نے کہاکہ سانحہ کوئٹہ میں پشتونوں اور بلوچوں کے تعلیم یافتہ فرقے کے کریم کو شہید کیاگیا پشتونوں اور بلوچوں کے گھروں میں صف ماتم بچھا ہواہے ایسے غم ،دکھ اورنازک مرحلے میں پشتونوں اور بلوچوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کا مل کر مقابلہ کیاجاسکے ،پشتونوں اوربلوچوں سمیت ہم اس ملک اور دنیا کے تمام امن پسند قوتوں کو بھی یکجاہونے کی اپیل کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ یہ ایک درداورتکلیف کی گھڑی ہے ہم نے بہت سے تکالیف دیکھیں یہ پشتونوں کی بقاء اور سرزمین کی دفاع کی لڑائی ہے مگر ہمیں امید ہے کہ ہمارے یہ غم کے دن امن وخوشی میں بدل جائینگے اللہ تعالیٰ ہمیں مزید امتحانوں سے نکال دیں ہمارے ماؤں ،بیٹوں کے سروں اور گھروں کو تحفظ دیں اور اللہ تعالیٰ ہمارے ان وحشی دشمنوں کو تباہ وبربادکرے ۔انہوں نے کہاکہ ہم سب پر یہ بات واضح کرتے ہیں کہ ہمارے سر قلم ہوجائیں گے مگر کسی جابر ،ظالم ،وغاصب کے سامنے جھکیں گے نہیں ہماری شہداء کی یہ قربانیاں ضرور رنگ لائیگی اور ہمارا دشمن نیست ونابود ہوگاانہوں نے کہاکہ بعض لوگ آج کل افغانستان کی طرف انگلیاں اٹھارہے ہیں جوکہ انتہائی غلط ہے افغانستان ہمیشہ ہمیں اچھی دوستی واچھے ہمسایہ کاثبوت دیاہے 1965اور 1971کی جنگ میں واحد افغانستان ہی کی سرحد محفوظ تھی ،افغانستان پر انگلیاں اٹھانے اولے عناصر پہلے اپنے گریبانوں میں جانکیں کہ انہوں نے افغانستان کیساتھ کیا کیاہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ سانحہ کوئٹہ کے فوراََ بعد غداری اور را کے ایجنٹ ہونے کے جو الزامات کاسلسلہ سامنے آیا اس سے دراصل سانحہ کوئٹہ کو پس منظر میں ڈال دیاگیاایسے مرحلے پر ان باتوں کو ترجیح دینے کی بجائے سانحہ کوئٹہ کو ہی اولیت دینے کی ضرورت تھی ،غداری کے الزامات کے سلسلے میں مختلف سوالات بھی اٹھائے ہیں کیونکر ایسا کیاگیا شیخ رشید اور دوسرے لوگوں کی کیاحیثیت تھی کہ ان سے ایک بات پر الجھایاگیا اور سانحہ کوئٹہ جیسے بڑے اورالمناک واقعہ سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی گئی ،غداری کے الزامات کاسلسلہ تو ایک عرصے سے چلاآرہاہے ،اس کو اہمیت دینے کی ضرورت تھی ،اسی طرح سانحہ کوئٹہ کے موقع پر سی پیک کی بھی بات کی گئی کہ سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے یہ واقعہ کیاگیا ہم سی پیک کی بات کرنیوالوں سے بھی یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ سی پیک بلوچستان میں ہے کہاں کہ اس کو ناکام بنانے کیلئے ایسے واقعات کئے جائیں ۔سی پیک تو پنجاب میں ہے وہاں کیوں ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے ہمیں اس طرح کے باتوں سے دھوکہ دینے کی کوشش نہ کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہمارے غیرت مند افغان بھائی اپنے وطن کو چھوڑ کر یہاں مہاجر ہوکر آئے مگر ضیاء الحق اور غیروں کی پالیسی اورسازش تھی کہ ہمارے افغان بھائی مہاجرہوئے جب یہ لوگ یہاں آئے تو انہیں یہاں ہار پہنائے گئے ان کو مجاہد اوربہادر کہاگیامگر جب یہاں کے حکمرانوں اوراسٹیبلشمنٹ کے مقاصد پورے ہوئے توا نہیں بے عزت کرکے یہاں سے نکالاجارہاہے حکمرانوں کا یہ طریقہ اور پالیسی غلط ہے یہاں کے حکمرانوں نے 30سال تک مہاجرین کو پالانہیں ہے بلکہ مہاجرین کے نام پر کھربوں ڈالر کمائے گئے حکومت مہاجرین کیخلاف یہ پالیسی اوررویہ ترک کردیں اوراقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق مہاجرین کیساتھ بہتر سلوک کیاجائے ،ہمارے قائد اسفند ولی خان نے اس حوالے سے واضح کیاہے کہ اگر افغان مہاجرین کیخلاف یہ رویہ اورپالیسی ترک نہ کی گئی توپھر ہم اس کی مزاحمت کرینگے ۔