چمن: پشتون قومی جرگے کے کنوئنر اور صوبائی وزیر پی ایچ ای نواب ایازخان جوگیزئی نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے کے تکمیل اور گوادر وبلوچستان کی ترقی ہماسیہ ممالک کہاں قبول ہے بلوچستان کے حالات دانستہ طور پر خراب کئے جا رہے ہیں شمالی پشتونخوا کے بعد دوسروں کی جنگ اب جنوبی پشتونخوا میں منتقل کر دی گئی ہیں اس جنگ کی نشاندہی میں نے ہر فلور پر پہلے کی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونے والے اے این پی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کے بھائی عسکر خان ایڈوکیٹ کی فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے کہی انہوں نے مزید کہا کہ اسمبلی میں بیٹھے تمام سیاست دان حقیقت نہیں بول سکتے ہیں اگر کسی نے بھی اپنے حق کی بات کی تو اس پر غدار کا لیبل لگادیا جاتا ہے اور یہ آگ جو آج کل بلوچستان اور خیبر پشتونخوا میں میں لگائی گئی ہے یہ دوسروں کی جنگ ہے اس میں نہ ایک آدمی جل رہا نہ ایک قوم جل رہا بلکہ اس میں تمام اقوام جل رہے ہیں میں نے پہلے اسمبلی کے فلور پر کہا تھا کہ اس آگ میں پہلے تعلیم یافتہ افراد کو ٹارگٹ کیا جائے گا پھر ساست دانوں کو ٹارگٹ کیا جائے گا پھر اس کے بعد پشتون اور بلوچ کے درمیان آگ لگائی جائیگی پاکستان سے اس وقت تمام ہمسایہ ملک ناخوش ہے ان کے تعلقات بہتر نہیں ہے مزید کہا کہ جب تک ہم سچ بولنا شروع نہ کریں تو پھر ہمارا حال ٹھیک نہیں ہوسکتا آئے ہم سب پشتون سیاسی پارٹیاں اور پشتونوں کے تمام تنظیمیں متحد نہیں ہونگے تب تک ہمارا حال ٹھیک نہیں ہوسکتا ہمارے ہزاروں سالوں سے ایک سسٹم بنا ہوا جس کو جرگہ کہا جا تا آئے اس جرگے کے ذریعے ہم سب مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کریں بلوچوں کے جنگ کا اہداف معلوم ہے بلوچ قوم ابھی تک اتنے طاقتور نہیں ہے لیکن و ہ آزادی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کے اہداف معلوم ہے حکمران ان کو راضی کرنے کیلئے سہولیات دینے کی پیشکشیں کر رہے ہیں لیکن پشتون قوم جو جنگ لڑ رہی ہیں وہ کسی اور عناصر کے مقاصد پورہ کررہے ہیں ہم کو دوسروں کی جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے ہم نے دوسروں کو خوش کرنے کیلئے کہاں کہاں نہیں لڑیں ہے جس میں کشمیر اور افغانستان نمایاں ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں اپنا مقصد نہیں ملا