گوادر: عوامی جمہوری چین کا ایک اعلیٰ سطحی وفد چن ڈرونگ کی قیادت میں منگل کو گوادر کے دورے پر۴ پہنچ گیا دس رکنی وفد نے گوادر پورٹ ایکسپریس وے گوادر فری زون، پاک چائنا فرینڈ شپ پرائمری سکول فقیر کالونی گوادر اور دیگر منصوبوں کا جائزہ لیا اس موقع پر گوار پورٹ اتھارٹی کے چےئرمین دوستین جمالدینی ایڈیشنل چیف سیکرٹری داؤد بڑیچ نے وفد کو بریفنگ دی۔ بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک کی تکمیل اور گوادر پورٹ کے فعال ہونے سے پاکستان سمیت پورے خطے میں مثبت اقتصادی تبدیلی رونما ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے اشتراک سے گوادر میں بہت جلد میگا منصوبوں پر عملدرآمد شروع ہوگا جن میں ایکسپریس وے کی تعمیر سمیت گوادر انٹر نیشنل ائر پورٹ کی تعمیر پر بھی کام رواں سال شروع کردیا جائے گا۔ جو اپنی نوعیت کا جدید ترین ائرپورٹ ہوگا۔ پاک چین تعلقات سے گوادر سمیت پورے پاکستان میں معاشی، معاشرتی اور اقتصادی انقلاب برپا ہوگا۔ پاک چین دوستی ہمالیہ سے اونچی سمندر سے گہری ا ور شہد سے میٹھی ہے دونوں برادر ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیکر پورے خطے میں اعلیٰ مثال قائم کی ہے جسے پاکستانی عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ عوامی جمہوری چین کا دس رکنی وفد جس کی سربراہی چن ڈرونگ کررہے تھے نے گوادر پورٹ ایکسپریس وے گوادر فری زون کا دورہ کیا اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات بلوچتان داؤد محمد بڑیچ، ڈپٹی کمشنر گوادر طفیل احمد بلوچ کے علاوہ اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر سرمایہ کاروں کے وفد کو گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سجاد حسین نے مکمل بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ ترقیات گوادر میں کئی ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کررہا ہے جن میں سے بہت سے منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جن میں جی ڈی اے ہسپتال ، جی ڈی سکول اور دیگر منصوبے شامل ہیں ۔ گوادر ماسٹر پلان سے متعلق بھی وفود کو تفصیل سے آگاہ کیاگیا،دریں اثناء ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات داؤد محمد بڑیچ نے کہا ہے کہ گوادر سمیت بلوچستان بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے ساتھ ساتھ کوالٹی میٹریل کے استعمال کو بھی یقینی بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈپٹی کمشنر گوادر طفیل احمد بلوچ، کی جانب سے دی گئی بریفنگ کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گوادر نے اے سی ایس بلوچستان کو گوادر میں جاری اور مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔دریں اثناء چین کے قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن کے ترجمان چاؤ چن شن نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کو ہر صورت کامیابی سے مکمل کیاجائے گا، اقتصادی راہداری ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کا بنیادی حصہ ہے ۔ ون بیلٹ ون روڈ کے تحت استعدادکار، انفراسڑکچر اور تعلیمی شعبوں میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ باہمی تعاون خوش اسلوبی سے فروغ پا رہا ہے ۔ چاؤ چن شن نے منگل کو ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ پر پیش رفت کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ کے تحت مختلف ممالکمیں 100ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے ۔منصوبہ سے منسلک ممالک وہ چینی کمپنیاں 46زون قائم کر چکی ہیں جبکہ چینی وزارت تعلیم نے ان ممالک کے ساتھ 60سے زائد معاہدوں پر دستخط کئے ہیں ۔ 2015میں ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ سے منسلک ممالک کے ہزاروں نوجوانوں نے چین میں سکالر شپس پر تعلیم حاصل کی جبکہ دنیا بھر کے 4لاکھ نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے لئے گزشتہ سال چین آئے ۔ چین اپنے ہمسایہ ممالک اور شراکت داروں کے ساتھ ایم او یوز کے تحت متعدد ریلوے لائنز شاہراہیں اور بندرگاہیں تعمیر کر رہا ہے ۔ 2013میں متعارف کرائے جانے والا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ میں شاہراہ ریشم معاشی راہداری اور اکیسویں صدی کی بحری شاہراہ ریشم شامل ہے۔یہ ایک تجارتی اور انفراسٹرکچر کا نیٹ ورک ہے جس کے ذریعے ایشیا ، یورپ اور افریقہ کو قدیم تجارتی راستوں کے ذریعے آپس میں ملایا جائے گا۔ اس اقدام کے تحت تعمیر کئے جانے والے تمام منصوبے دنیا بھر کے تمام ممالک، خطوں اور تنظیموں کے لئے بھی قابل استعمال ہوں گے ۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کا مقصد مشترکہ تعمیر وترقی اور خوشحالی کو فروغ دیتے ہوئے عوام کو مستفید کرنا ہے جو کہ باہمی اعتماد سازی اور تبادلوں کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔