|

وقتِ اشاعت :   August 21 – 2016

نوشکی: امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاہے کہ سانحہ کوئٹہ ہمارے ایجنسیوں کی ناکامی ہے ،سانحات کو روکنے اور انکے تدارک میں خفیہ ایجنسیاں ناکام نظر آتی ہیں،پشاور،چارسدہ اور اب کوئٹہ لہولہان ہوچکاہے ،مگر ہمارے ایجنسیاں ایسے واقعات کو قبل از وقت روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں ہیں،سانحہ کوئٹہ نے بلوچستان کو ہلا کر رکھ دیاہے ،مودی پہلے بھارت میں ناانصافیوں اور مظالم کا جواب دیں ،بلوچستان کا کشمیر سے موازنہ کسی صورت درست نہیں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ نوشکی کے موقع پر صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر انکے ہمراہ جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مفتی ہدایت الرحمن بلوچ،جمیل احمد مشوانی،حافظ فرید احمد مینگل،حافظ مطیع الرحمان مینگل ودیگر بھی موجودتھے،مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاکہ سانحہ کوئٹہ نے بلوچستان کی سوشل اسٹرکچر کو تباہ کرکے رکھ دیاہے ،عدلیہ،ایجنسیاں اور انتظامیہ مکمل طورپر ناکام ہوچکے ہیں ،خفیہ اداروں کی کارکردگی سے متعلق جو بھی باتیں کی گئی ہیں وہ بالکل درست اور ہم انکی تائید کرتے ہیں ،ایسے واقعات اور دہشت گردی کے وارداتوں کو سرانجام دینے سے قبل خفیہ اداروں کی اہم کردار ہوتی ہے ،دہشت گردی کے واقعات سے پہلے باخبرہونا،دہشت گردوں کی آمد ورفت،اور انکی سرکوبی انہی اداروں کی زمہ داری ہوتی ہے مگر سیکورٹی کے ادارے مکمل نااہل نظر آتے ہیں ،یہ کام گلی محلوں میں گھومنے والے سیاسی ورکرز کا نہیں بلکہ جو لوگ اس کام کے لئے باقاعدہ مناصب پر فائز ہیں اور تنخواہ لیتے ہیں یہ انکی زمہ داری ہے ،پشاور،چارسدہ،کوئٹہ مسلسل لہولہان ہوتے رہے ہیں جسکی موجودگی میں جمہوریت کو فروغ نہیں دیا جاسکتا،ایسے اقدامات جاری رہے تو دہشت گردوں کو اتنی چھوٹ جاری رہی تو 2018کے انتخابات کے لئے آزادانہ ماحول فراہم نہیں کیا جاسکے گا اور کوئی بھی سانحہ انتخابات کے شیڈول کو متاثر کرسکے گا،ہماری حکومت کو سوچنا چائیے ،جبکہ عدلیہ کے معزز ججوں کو سزاء وجزاء کے عمل کو تیز تر کرناہوگا،کیونکہ قصاص اللہ کا قانون ہے ،عدلیہ ،مقننہ کے موجودگی میں بیرونی دباؤ میں دس سال تک ملک میں بیرونی آقاؤ ں کے دباؤ پر پھانسی پر پابندی برقرار رہی جس سے سزاء وجزاء کا عمل انتہائی متاثر ہوا،اب دس سال بعد ہمارے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو خیال آیا اور پھانسی بحال کی گئی ،سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ ناانصافیوں کا شکار بلوچستان کو نہ بنایاجائے،ایسے آپریشن نہ کئے جائیں کہ آواز بلند ہو کہ بلوچستان میں ظلم ہورہاہے بلکہ مجرموں کو سزاء بھی قانون کے مطابق دئیے جائیں لاشیں پھینکنے سے ردعمل پیدا ہوتے ہیں اور یہ نقصان دہ عمل ہوگا،بھارتی وزیر اعظم مودی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مودی کو کس بین الاقوامی قانون کے تحت یہ حق یا جواز ہے کہ وہ پاکستان کے معاملات میں مداخلت کریں اور بلوچستان کا کشمیر سے موازنہ کیا جائے،کشمیر پر بھارت زبردستی قابض ہواہے ،بلوچستان پر بات کرنے سے قبل مودی بنگال،آسام،کشمیر ،جارکنڈ میں بھارتی ظلم وستم بند کریں انہوں نے وزیر اعظم پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کے وزیر اعظم کے بیان پر نواز شریف نے چھپ سادھ لی اور بھارتی وزیر اعظم کا جواب وزیر اعلیٰ بلوچستان دیتے رہے ہیں جو ہمارے وزارت خارجہ اور وفاقی حکومت کی ناکامی ہے ،انہوں نے کہاکہ سانحہ کوئٹہ کو سی پیک سے جوڑنا ہرگز درست نہیں ،حالانکہ تحقیق کے درست کسوٹی پر پرکھ کر بولنا چائیے تھا،گوادر میں پینے کا پانی نہیں،بیماروں کے علاج کے لئے ہسپتال نہیں ،سی پیک کے نقصانات بلوچستان اور فوائد دیگر صوبے اٹھائیں تو یہ کہاں کا انصاف ہے ،ہماری خارجہ پالیسی مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے ،دوست ممالک ہماری دشمن ہوتے جارہے ہیں،30لاکھ افغان مہاجرین کی خدمت ہم نے کی مگر وہ آج ہندوستان سے دوستی بڑھارہے ہیں ،اس کے علاوہ ایران کو ہم نے خود سے دور کردیاہے ،بین الاقوامی دنیا اپنے مفادات دیکھتے ہیں ہم نے ایران کو دور کیا،پاک ایران گیس منصوبے سے کنارہ کشی اختیار کی تو وہ انڈیا سے نزدیکی ہی بڑھائیں گی اور اپنی گیس وتیل فروخت کریگی۔