کوئٹہ: بی این پی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہاں کے حکمرانوں کی نظریں بلوچستان ساحل وسائل پر اپنا دائمی قبضہ جمانے پر مرکوز ہے انہیں یہاں کے عوام کی ترقی وخوشحالی، تعلیم، صحت ، روزگار اور دیگر ضروریات زندگی کے سہولیات فراہمی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے حکمرانوں کی ناروا پالیسیوں کے نتیجے میں آئے روز پسماندگیوں میں اضافہ ہورہا ہے جو کہ اس بات کی غمازی کر تا ہے کہ وہ اپنے استحصالی پالیسیوں کو تقویت دینا چا ہتے ہیں ہم ہر گز ترقی کی مخالف نہیں ہے لیکن ایسے ترقی ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے جو ہمارے تہذیب وتمدن بقاء سلامتی وجود کی خاتمے کا سبب بنیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت موجودہ حکمران بھی کوئٹہ کے قدیم تریم علاقوں کو ترقیاتی اسکیموں اور پیکجز میں نظرانداز کر کے تنگ نظری کی ثبوت دے رہے ہیں ایسے ہتھکنڈوں اور آنیوالے چیلنجز مشکلات کا مقابلہ کر نے کیلئے یہاں کے با شعور بلوچ عوام کو بی این پی کی تین رنگہ جھنڈے کو مضبوط کرکے بزرگ قوم پرست سیاسی رہنماء سردار عطاء اللہ خان مینگل اور قائد تحریک سردار اختر جان مینگل کی ولولہ انگیز اور ناقابل شکست قیادت میں متحد ہو کر جدوجہد کر نا ہو گا اور آنیوالے سازشوں اور منصوبوں کو ناکام بنانا ہو گا ان خیالات کا اظہار کلی فیروز آباد سریاب میں ناصر بلوچ ،یحییٰ بلوچ اورباری داد کی قیادت میں سینکڑوں افراد کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ جلسے سے پارٹی کے مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسیٰ بلوچ ، ضلعی صدر اختر حسین لا نگو،غلام نبی مری،جاوید بلوچ ، رکن صوبائی اسمبلی حمل بلوچ، بی این پی بوالان کے ضلعی آرگنائزر ملک اسد بنگلزئی ، میر غلام رسول مینگل، ملک محی الدین لہڑی ، محمد لقمان کاکڑ، ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، احمد نواز بلوچ، آغا خالد شاہ دلسوز ، ملک نوید دہوار،مجیب الرحمان لہڑی، میر شاہجہان لہڑی،ہدایت اللہ جتک،میر محمد اکرم بنگلزئی اور ناصر بلوچ نے خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے نئے شامل ہونیوالے دوستوں کو پارٹی میں شمولیت کرنے پر مبارکباد پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ اس کٹھن مشکل دور میں پارٹی کے ساتھ بلوچ عوام کی اعتماد اس بات کی غمازی کر تا ہے کہ پارٹی نے ہمیشہ ہر مشکل اور کٹھن وقت میں جاری نا روا اور نا انصافیوں کے دور دورہ میں عوام کو کبھی بھی تن وتنہا نہیں چھوڑا اور ہر فورم پر بلوچ عوام کی حقیقی نمائندگی اور ترجمانی کا حق ادا کر تے ہوئے جدوجہد کیا انہوں نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ گزشتہ18 سالوں سے پارٹی جس کرب اور تکلیف مشکلات کا سامنا کر تے ہوئے یہاں کی ساحل وسائل پر بلوچ عوام کی حق حاکمیت کی اصولی موقف اپنا تے ہوئے با اختیار قوتوں کے سامنے کبھی بھی اصولوں پر سودا بازی نہیں کیا اور ہر فورم پر سچ اور حق کی بات کر تے ہوئے نا انصافیوں کا سامنا کیا اس کے پاداشت میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل حبیب جالب بلوچ سمیت 95 ساتھیوں کو قتل وغارت گری اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور پارٹی کو انتقا می کارروائیوں اور دیوار سے لگانے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حقیقی قوم وطن دوست ، جمہوری قو توں کو راستہ روکنے کیلئے ایسے ڈمی لو گوں آگے لایا جا رہا ہے جو وہ یہاں کے قوموں کے حقوق ، ساحل وسائل زبان شناخت ، وجود ، واک واختیار، حق حاکمیت کیلئے سیاست اور جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کی مقابلے میں ان لو گوں کا راستہ رونے کی کوشش کیا جا تا ہے جو حقیقی طور پر یہاں کے عوام کی حقوق کیلئے قربانیاں دیتے اور جدوجہد کر تے چلے آرہے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ افسوس کیساتھ یہ کہنا پڑھتا ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی قدرتی دولت سے مالا مال خطے کے حقیقی مالک پانی کی بوند بوند کیلئے ترس رہے ہیں بے روزگاری کی وجہ سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور علاقے کے عوام زندہ کی تمام تر سہولیات سے محروم انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر ہیں لیکن حکمرانوں نے کبھی بھی یہ کوشش نہ کیا کہ یہاں کے لوگوں کے مسائل ومشکلات کو حل کیا جا سکے انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بلوچستان کے باشعور افراد ، وکلاء ، صحافی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے افراد کو قتل وغارت گری کا نشانہ بنایا گیا جو کہ ایک عظیم سانحہ ہے اور ان لو گوں کی کمی کو پر کر نے میں صدیاں درکا ر ہونگے اس سانحہ کے شہداء کے لئے پارٹی کے زیر اہتمام 21 اگست کو خضدار میں ایک عظیم الشان جلسہ عام ہو گا جس سے پارٹی کے مرکزی قائد سردار اختر جان مینگل اور دیگر رہنماء خطاب فرمائینگے اور اس سانحہ کے محرکات پر روشنی ڈالیں گے بلوچستان کے عوام سے اپیل کر تے ہیں کہ وہ اس جلسہ عام میں بھر پور انداز میں شرکت کر کے یہ ثابت کر دیں کہ یہاں کے عوام بی این پی کے پلیٹ فارم پر متحد اور منظم ہے اور وہ ہر قسم کی سازشوں اور منصوبوں کو ناکام بنا نے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں