کوئٹہ : صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ مارچ سے قبل محکمہ تعلیم سے گھوسٹ سکولوں اور اساتذہ کی تفصیلات جمع کرکے ذمہ داران کیخلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائیگی ،اساتذہ کے مسائل سرآنکھوں پر مگر انہیں بچوں کے روشن مستقبل کیلئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کارلانا ہوگی ،تھریٹس کے نام پر بند کئے گئے اداروں سے جواب طلب کرینگے ،گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے 16میں سے 13مطالبات کو تسلیم کرلیاگیاہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز صوبائی سیکرٹری تعلیم ڈاکٹرعمر بابر ،گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر حبیب الرحمن مردانزئی ،جنرل سیکرٹری یار جان بزنجو ،امان اللہ پیر علی زئی ودیگر کے ہمراہ پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔عبدالرحیم زیارتوال کاکہناتھاکہ صوبے میں زیر تعلیم بچوں کے کل تعداد کی 85فیصد سرکاری اداروں میں زیر تعلیم ہے جب کہ نجی تعلیمی اداروں میں 15فیصد بچے پڑھ ررہے ہیں ،اساتذہ نے جو مطالبات پیش کئے ہیں ان میں سے 13 مطالبات کو تسلیم کرلیاگیاہے ہم اساتذہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بچوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں معیاری تعلیم کی فراہمی کویقینی بنانے کیلئے اپنی صلاحیتیں بروئے کارلائیں اس وقت اساتذہ کی تنخواہیں اور مراعات میں اضافہ کیاگیاہے انہوں نے کہاکہ موجودہ دور حکومت کے دوران اساتذہ کو ڈیوٹیوں پر لانے کیلئے بھرپوراقدامات کئے جاچکے ہیں تاہم جب تک والدین اور معاشرے کے دیگر افراد مل کر کوششیں نہیں کرتی اس وقت شرح خواندگی میں اضافہ ممکن نہیں ہوسکتا ،اساتذہ ،والدین اور تعلیم کی ٹرائیکا کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ اساتذہ اور طلباء کو درس وتدریس کے سلسلے کو جاری رکھنے کیلئے تمام تر سہولیات پہنچائے جاسکے ہم محکمہ تعلیم میں کسی کی بھی مداخلت برداشت نہیں کرینگے ،تمام ضلعوں میں ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں ٹیمیں سکولوں کے معائنے کاکام کررہی ہے اس کے علاوہ کلسٹر پروگرام کے تحت بھی سکولوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ درسی اورغیر درسی مواد کی فراہمی کا بھی خاص خیال رکھاجارہاہے انہوں نے کہاکہ اساتذہ قابل احترام ہے لیکن انہیں بچوں کو ان کا حق ضرور دیناہوگا اس سلسلے میں غفلت برتنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا انہوں نے کہاکہ اساتذہ کی 16مطالبات میں سے 13کو تسلیم کیاجاچکاہے جبکہ 3مطالبات کا تعلق چیف سیکرٹری اور محکمہ ایس اینڈ جی ڈی سے ہے جنہیں بھی حل کرلیاجائیگا انہوں نے کہاکہ صوبے کے سرد علاقوں میں ماہ دسمبر کے دوران تعلیمی ادارے بند ہونگے