اسلام آباد : سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ارکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر پاکستان شماریات بیورو کے فنکشنل ارکان میں چھوٹے صوبوں کو نمائندگی نہ دی گئی تو اس سے مردم شماری متنازعہ ہو جائے گی ۔ کمیٹی نے خواتین کے لئے عدلیہ میں کوٹہ مختص کر نے اور وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی بار کونسلز کو گرانٹ دینے کے حوالے سے ترامیم کو آئندہ اجلاس تک ملتوی کر دیا جبکہ بلڈنگ کوڈ کے حوالے سے ضوابطکار کا ڈرافٹ تین ہفتوں کے اندر وفاقی کابینہ کو منظوری کے لئے بھیجنے کے لئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو ہدایات دے دیں ۔کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین جاوید عباسی کی سربراہی میں بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا ۔ اجلاس میں پاکستان شماریات بیورو کو خودمختاری دینے کے حوالے سے ترمیمی بل کا جائزہ لیا گیا ۔پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر سعید غنی نے مطالبہ کیا کہ اگر تمام صوبوں کو پاکستان شماریات بیورو میں نمائندگی نہ دی گئی تو پھر مردم شماری متنازعہ ہو جائے گی اور اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ساری صورت حال سے بچنے کے لئے ادارے کے فنکشنل ارکان میں ہر صوبے کو نمائندگی دی جائے ۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جہانزیب ، جمالدینی نے بھی ان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری پر ہر صوبہ اعتراض کرے گا انہوں نے کہا کہ اگر صوبوں کو نمائندگی نہ دی گئی تو مردم شماری پر اعتراض کریں گے ۔ ۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں مزید غور کرنے کا فیصلہ کیا کمیٹی کے اجلاس میں خواتین کو عدلیہ میں نمائندگی دینے کے لئے خصوصی کوٹہ مختص کرنے اور وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی بار کونسلز کو نمائندگی دینے کے لئے مزید غور آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا ۔ سیکرٹری قانون و انصاف کی جانب سے خواتین کو مخصوص کوٹہ کے تحت عدلیہ میں ججز کی پوسٹوں پر نمائندگی دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ججز کا تقرر میرٹ پر ہونا چاہئے کمیٹی کے اجلاس میں بلڈنگ کوڈ کے عملدرآمد ترمیمی بل کا جائزہ لیا گیا کمیٹی کے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو ہدایات دی ہیں کہ تین ہفتوں کے اندر اس کا ڈرافٹ مکمل کر کے وزارت قانون و انصاف کی منظوری کے بعد اسے منظوری کے لئے وفاقی کابینہ کو بھیجنے کی ہدایات دیں