اسلام آباد: سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس زیر صدارت سینیٹر سردار فتح محمد حسنی پارلیمنٹ میں کمیٹی روم نمبر 1 میں منعقد ہوا ، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کمیٹی کو بتایا کہ گوادر میں ریلوے ڈویژن بنانے پر کام جاری ہے ۔ ریلوے کے دفاتر جلد بنا دئیے جائیں گے تیزی سے کام ہو رہا ہے ۔گوادر کو پورے پاکستان سے لنک کرنے کے لیے زمین لی ہے ،گوادر میں ریلوے کو 48 کنال زمین بلوچستان حکومت نے دی ہے ۔71 ایکڑ زمین گوادر میں ریلوے نے سنبھال لی ہے ۔پشاور ،طور خم کی فزیبلٹی بن رہی ہے پشاور سے کراچی تک کا ابتدائی تخمینہ تقریبآ 8.2 بلین ڈالر کا ہے ۔ چین کے ساتھ ریلوے سسٹم کی بہتری کے لیے ان کے متعلقہ حکام کے ساتھ بات چیت آخری مراحل میں ہے ،تاہم پشاور تا لاہور سنگل ٹریک پر ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے تعاون سے کام شروع کیاجائے گا۔ ہم ایک جگہ مقید ہو کر نہیں رہیں گے ۔ڈی سی او بہاولپور نے تقریبآ 2 کروڑ روپے سے زائد وصولی کر کے 24 ایکڑ ریلوے کی زمین ڈی ایچ اے کو دی ہے جس پر بورڈ آف ریونیو نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھیج دی ہے رپورٹ میں ڈی سی او بہاولپور قصور وار ہے ۔،وزیر اعلیٰ پنجاب نے قواعد و ضوابط اور قانون کی عمل داری کو یقینی بنانے کا کہا ہے ۔ریلوے زمینوں کی کمرشلائزیشن اور باہمی معاہدوں کے حوالے سے ایجنڈے پر کمیٹی کا جائنٹ سیشن بلائیں گے کمیٹی کی منظوری اور تجاویز کی روشنی پر آگے بڑھیں گے۔ جس پر بلوچستان میں ریلوے ٹریک کے لیے مزید زمین خریدیں گے ۔صوبہ بلوچستان کو وزارت کے ذمہ 13 کروڑ روپے باقی ہیں ۔قبضہ کی گئی زمینوں سمیت تمام ریلوے کی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جائے گا۔ایک ایک انچ زمین کاریکارڈ سامنے ہو گا جہاں قبضہ ہے واگزار کرائیں گے ۔چین کے ساتھ ML2 کی فزیبلٹی رپورٹ 3 ماہ میں تیار ہو جائے گی ،باقاعدہ ٹینڈر کریں گے چائنہ آئے یا جو بھی ملک آئے اگرچہ سی پیک کا حصہ ہے لیکن کسی ایک ملک کے پابند نہیں ہو ں گے ، فزیبلٹی رپورٹ جنوری 2017 ء تک مکمل ہو جائے گی ۔ہم دنیا کو آفر کریں گے اس پراجیکٹ کے لیے زمین لینی ہے ،الائنمنٹ کرنی ہے بلوچستان سے زمین لیں گے پرائیویٹ سیکٹر میں جو زمین آئے گی وہ خریداری کریں گے ۔چیئرمین کمیٹی سردار فتح محمد حسنی نے کہا ہم ریلوے زمینوں کو فی الفور واگزار کرانے پر زور دیتے ہیں اس سے ریلوے کے مسائل حل ہو جائیں گے ۔