|

وقتِ اشاعت :   November 25 – 2016

اسلام آباد: سینٹ اجلاس میں سانحہ درگاہ شاہ نورانی پر تحریک التوا ء بحث کے لیے منظورہونے کے بعد بحث میں ممبران ایوان بالا نے حکومت اور سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر گہرے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے موٗثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا سینیٹر عثمان کاکڑنے کہا سیکورٹی اداروں کی ناکامی پر شاہ نورانی سانحہ پیش آیا۔گڈانی کی عوام کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ بلوچستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے،ہسپتال کے کمپوڈر سے جواب طلب کیا گیا،چیف سیکرٹری کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو ملک میں امن قائم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی ہدایت کرے۔ بلوچستان چودہ سال سے دہشتگردی کے نشانے پر ہے،اکتیس سیکورٹی ایجنسیاں مل کر بلوچستان میں امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔جو حالات ہیں ایسا لگتا ہے مستقبل میں ہم تباہ ہو جائینگے۔حافظ حمد اللہ نے کہا جو ادارے ذمہ دار ہیں ان کی سرزنش کی جائے۔آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ تحقیقات کے مطابق حملے میں بیرونی ہاتھ شامل ہیں۔ لاشیں اٹھاتے ہوئے ہم نہیں ڈرتے مگر سوال اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔واقعات ہو جاتے ہیں مگر اس کے بعد بھی ذمہ داران کا تعین نہیں کیا جاتا۔ گڈانی میں شاہ نورانی درگاہ پر حملہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔ حافظ حمداللہ نے کہا گوادر کی تعمیر کے ساتھ ہی بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا۔ شاہ نورانی میں جو لوگ دھمال ڈال رہے تھے کیا وہ سی پیک کے مزدور تھے۔چائینہ سے قافلہ گوادر تک پہنچ گیا مگر اس پر حملہ نہیں ہوا۔بلوچستان کو وسائل آبادی اور لاشیں رقبہ کے اعتبار سے دی جاتی ہیں شاہ نورانی پر حملہ کرنے والی خاتون خودکش بمبار پچاس چیک ہوسٹیں کراس کرکے وہاں پہنچ گئی طاہر مشہدی نے کہادہشت گرد گبر سنگھ کی طرح ہیں بس یہی سنتے ہیں کتنے آدمی تھے کتنے آدمی تھے پتہ چلا تین آدمی تھے اور پولیس اکیڈمی پر دو سو بندے مار دیے عوام کی جان مال کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ھوتی ہے ۔حکمران صرف بنک اکاونٹس،، اور آف شور کمپنیاں بنانے آئے ہیں وزیر داخلہ انکے ساتھ ہی بیٹھ رہے جس پر انہوں نے پابندی لگا رکھی ھے ، سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے لوگوں کے ویلکم کیا جاتا ھے حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ھو چکی ھے۔ دہشت گردوں کی سرپرستی کی جارہی ہے نیکٹا کو متحرک کیوں نہیں کیا جارہا۔نیشنل سیکورٹی کے اوپر پارلیمانی کمیٹی تشکیل کیوں نہیں دی جارہی وزیر داخلہ کہتے ہیں ایجنساں اطلاع دیتی ہیں دہشتگر دوں کے خلاف پھر کاروائی کیوں نہیں ہوتی فوری طور پر پارلیمانی کمیٹی برائے نیشنل سیکورٹی تشکیل دی جائے ،سینٹر مشاہد اللہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم ایسی تنقید برداشت نہیں کریں گے، جو لوگ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں ملوث رہے اڑھائی سال قبل دہشتگردی کی کیا صورتحال تھی سب جانتے ہیں ، آج کراچی سمیت ملک بھر میں دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے ۔اپنے صوبہ کی طرف یہ مہیں دیکھتے ،ہم تنقید کو برداشت کریں گے اگر فنکاری ہوئی تو اسکا جواب دیں گے ،ماضی کی حکومتوں نے ملک کے ساتھ کیا کیا،سابقہ دور میں امن امان کی کیا صورتحال تھی کوئی بھولا نہیں،بلیم گیم نہیں بلکہ قومی سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔جو کچھ ہم نے ساڑھے تین سال میں کیا اگر سابقہ حکومت پانچ سال میں کرتی تو یہ حالات نہ ہوتا،اگر تمام صوبوں کے اکابرین اپنے صوبوں کو دیکھیں تو چوہدری نثار کی بات کرنا چھوڑ دیں گے ،اس ملک میں پہلی دہشت گرد تنظیم آل زولفقار کس نے بنائی ،پی آئی اے کا جہاز کس نے اغوا کیا کس نے میجر کو گولی ماری، وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن نے کہا درگاہ شاہ نورانی پر لیویز کے دس جوان تعینات ھونے چاہئے تھے لیکن واقع کے وقت صرف ایک جوان ڈیوٹی پر تھاایک اندازہ ھے کہ واقعہ سی پیک کو نقصان پہنچانے کی کوشش ھے گوادر بندرگاہ کے افتتاح سے ایک روز قبل یہ واقعہ ھوادرگاہ پر حملہ سافٹ ٹارگٹ تھاانٹری پوائنٹ پر چیکنگ کا نظام نہ ھونا بھی واقعہ کا سبب بناواقع میں 36 لوگ شہید جبکہ انہتر زخمی ھوئے .شہدا میں دو کا تعلق بلوچستان اور چونتیس کا اندرون سندھ سے تھا۔