|

وقتِ اشاعت :   November 25 – 2016

اسلام آباد: پختونخوا عوامی ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف باوقار انداز میں رخصت ہو رہے ہیں ، تاریخ اور دنیا انہیں یاد رکھے گی اور ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹر ویو میں محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف باوقار انداز میں رخصت ہو رہے ہیں ، تاریخ اور دنیا انہیں یاد رکھے گی اور ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے تین جنرل جو غلطیاں کر چکے ہیں اگر وہ راحیل شریف بھی کرتے تو نہ جانے پاکستان کا کیا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ایک میٹنگ کے دوران جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم نواز شریف بھی موجود تھے میں نے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ اگر دونوں شریف ایک ہی پیج پر چلیں تو یہ ملک کے لئے بہت خوش قسمتی کی بات ہو گی اور پھر میں نے یہ بات پارلیمنٹ میں بھی کہی تھی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جنگ آخری آپشن ہوتا ہے،ہمیں جنگ سے بچنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ جنگ مسلط ہو جائے تو پھر مقابلہ کرنا چاہیے ، ہمیں بات چیت کے کسی فورم کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے ، کشیدگی پرپاکستان کو تیسرے فریق سے رابطہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کو آئین کے تحت حق ملنا چاہیے ، دہشتگردی کی ہر شکل کی مخالفت کرتے ہیں۔دریں اثناء پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بہت کچھ اور بہت جلدی کرنا ہوگا موجودہ حالات میں محتاط رہنا ہوگا اور ہمیں دہشت گردی سے جان چھڑانی ہوگی پشتون اور بلوچ کو ان کے ساحل و وسائل پر آئینی گارنٹی دی جائے تو حالات پر قابوپایاجاسکتا ہے عمران کے طریقہ احتجاج پر اعتراض ہے ہر الزام کر کوئی استعفیٰ نہیں دے سکتاافغان مہاجرین کو زبردستی بے دخل کرنے کی مخالفت کرتے ہیں جو یہاں پیدا ہوئے ہیں ان کو یہاں رہنے کا حق دیا جائے وزیراعظم نے بھی اس بات کو تسلیم کیا جس نے افغانستان نے نہیں دیکھا وہ یہاں رہنے کا حق حاصل سکتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک بہت بڑا بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے اور 9/11 کے بعد ہمارے لئے جو مسائل اور حالات پیدا کئے گئے ہیں ہمیں موجودہ حالات میں محتاط رہنا ہوگا اور اس دہشت گردی سے جان چھڑانی ہوگی ہمیں جنگ میں پھسانے کی کوشش کی جارہی ہے دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بہت کچھ اور بہت جلدی کرنا ہوگا سی پیک پر تمام صوبوں کو اعتماد میں لیا جائے اور جس طرح تحفظات اور تضادات پائے جارہے ہیں ان کو ختم کیا جائے سی پیک کے مسئلہ پر ہمسایہ ممالک کو بھی شامل کرایا جائے اور افغانستان اور ایران کے شامل ہونے سے ہمیں آسانیاں پیدا ہونگی اور خاص کر افغانستان سے ہمیں 8 راستے ملیں گے جو سنٹرل ایشیاء تک روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقعے ملیں گے گوادر کو چار بہا اور بندرعباس سے ملانے سے ہمیں کہیں مواقعے ملیں گے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں محمدنوازشریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں واضح اعلان کیا گیا کہ سب سے پہلے مغربی روٹ پر کام شروع کیاجائے گا اور ہم نوازشریف کو بتایا کہ سی پیک کے مسئلہ پر خیبرپختونخوا ‘ بلوچستان اور سندھ کے وزیراعلیٰ کیساتھ ساتھ ٹیکنیکل افراد کو بھی شامل کیا جائے جو اس معاملے کو سمجھیں اور ان پرجن کو اعتراضات اور تحفظات ہیں ان کو ختم کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں کے محکوم اقوام کو ان کے ساحل ووسائل پر حق نہیں دیاجارہا پشتون اور بلوچ کو ان کے حقوق پر آئینی گارنٹی دی جائے تو حالات پر قابو پایاجاسکتا ہے اور موجودہ حالات میں سب کو ملکر کام کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں ایسا ادارہ ہونا چاہئے جو سب کا احتساب کرے صرف سیاستدانوں کا احتساب کیوں ہر ادارے کو اپنے دائرہ کار میں رہنا چاہئے اگر پرانی روایت ہوتی تو عمران خان صوبائی حکومت نہیں بناسکتے ہر الزام پر کوئی استعفیٰ نہیں دے سکتا عمران خان کے طریقہ احتجاج پر اعتراض ہے قطر ی شہزادہ کا معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت ہی فیصلہ کرے گی ۔