کراچی: امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ حکمرانوں نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا، ہمارے 70 سال ضائع کیے گئے، آج بھی لاکھوں نوجوان مایوس ہیں۔
کراچی میں سندھ ورکرز کنونشن سے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان کے کروڑوں بچے غربت کی وجہ سے اسکول نہیں جاسکتے۔
انھوں نے کہا کہ آج بھی ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ہیں اور یہ بے روزگار نوجوان ڈگریاں جلانے پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں کرپشن کے حوالے سے سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کرپشن کا سمندر ہے، ‘آف شور کمپنیوں میں جن کا نام ہے ہر ایک سے پوچھا جائے گا’۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سب زیادہ کرپشن اسلام آباد اور پھر کراچی میں ہے، ‘کراچی میں سب سے زیادہ سندھ سیکریٹریٹ پھر لوکل گورنمنٹ میں کرپشن ہوتی ہے’۔
سندھ میں کرپشن کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں تھر میں بچے مررہے تھے اور لاڑکانہ میں جشن پر ایک ارب سے زائد خرچ کیے گئے جس میں شرکت کیلئے صرف ایک فنکارہ کو کراچی سے ہیلی کاپٹر میں لے جایا گیا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ بھٹو نے پاکستان کا آئین دے کر وطن کو جوڑ کررکھا جبکہ پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹوکے آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں نے پاکستان کو کچھ نہیں دیا، ہمارے 70سال ضائع کئے گئے۔
انھوں نے پاکستان کے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان سے کما کر رقم باہر بھیجتے ہو اور خود کو قوم کا لیڈر کہتے ہو’۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے حکمران ملک سے باہر جاکر علاج کراتے ہیں، جبکہ میں نے لاہور میں ہسپتالوں کے دورے کے موقع پر دیکھا کہ 2، 2 بچوں کا علاج ایک ہی بستر پر جاری تھا۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ وہ دلوں، گھروں، گلیوں، عدالتی، معاشی اور سیاسی نظام میں انقلاب چاہتے ہیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی دوسری جماعتوں کی طرح عام جماعت نہیں ہے، جماعت اسلامی پاکستان میں کسی فرد کی بادشاہت نہیں صرف اللہ کی حاکمیت چاہتی ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال اگست میں پاناما لیکس کی تحقیقات اور آف شور کمپنیوں میں لگایا گیا سرمایہ واپس لانے کے لیے جماعت اسلامی نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
جماعت اسلامی کی درخواست میں وفاق، وزارت خزانہ، قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سمیت دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا تھا۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ آف شور کمپنیوں کے لیے غیر قانونی طریقے سے رقم باہر بھیجی گئی، عوامی عہدہ رکھنے والے بھی غیر قانونی رقم لوٹنے والوں میں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں آف شور ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے مالی معاملات عیاں ہوئے۔
تحقیقاتی صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم (انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹیگیٹیو جرنلسٹس) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے جس میں درجنوں سابق اور موجودہ سربراہان مملکت، کاروباری شخصیات، مجرموں، مشہور شخصیات اور کھلاڑیوں کی ‘آف شور’ کمپنیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔
ان دستاویزات میں روس کے ولادمیر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل ہیں،اس ڈیٹا میں وزیراعظم نواز شریف کے اہل خانہ کی آف شور ہولڈنگز کا ذکر بھی موجود ہے۔
ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، وزیراعظم کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔