|

وقتِ اشاعت :   December 3 – 2016

اسلام آباد/ کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ کے اختیارات بلوچستان کو دیئے جائیں اور بلوچ عوام کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے بچانے کیلئے فوری طور پر قانون سازی کی جائے تاکہ دیگر صوبوں اور بیرون ملک سے آنے والوں کے باعث بلوچستانی عوام اقلیت میں تبدیل نہ ہوں حقیقی ترقی و خوشحالی کے مخالف نہیں بلوچوں کے جملہ مسائل کے حل کو ترجیح دی جائے ہماری خدشات و تحفظات کو دور کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں قومی جمہوری انداز میں عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے رہیں گے ہمیشہ اجتماعی قومی مفادات کی سیاست کی ہے عوام کے احساس اور جذبات کی ترجمانی ہماری سیاست کا محور ہے انہوں نے کہا کہ ہماری قومی و جمہوری جدوجہد عوام کی حقیقی ترقی و خوشحالی کیلئے ہے بلوچستان میں میگاپروجیکٹس میں اولیت بلوچوں اور بلوچستانیوں کو دی جائے تاکہ ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکیں گوادر پورٹ کا مکمل اختیار بلوچستان کو دیا جائے صوبوں کے ساحل وسائل پر اختیارو حق ملکیت کو تسلیم کیا جائے گوادر کے بلوچوں اور بلوچستان کے عوام کو اقلیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے قانون سازی کی جائے تاکہ دیگر علاقوں سے آنے والے لوگوں کو شناختی کارڈز ‘ لوکل جاری نہ ہو سکے انتخابی فہرستوں میں ان کے ناموں کا اندراج نہ ہو سکے سی پیک کے ابتداء ہی سے گوادر کے عوام کو فوری طور پر صاف پانی ‘ انفراسٹرکچر ‘ ہسپتال فراہم کی جائے ٹریننگ سینٹر اور میرین یونیورسٹی تعمیر کر کے مقام لوگوں کو ٹریننگ دی جائے گوادر پورٹ اور میگا پروجیکٹ کے تمام ملازمتوں کو گوادر ‘ مکران اور بلوچستان کے باشندوں کو ترجیح دی جائے ‘ ماہی گیروں کو معاشی استحصال سے بچانے کیلئے متبادل روزگار اور جی ٹی کا بندوبست کیا جائے اور موجودہ جی ٹی کو وسعت دی جائے ‘ تاپی ‘ آئی پی ‘ ایل این جی پائپ لائن جس صوبے سے گزرے اس صوبے کے حق کو تسلیم کیا جائے گوادر کے مقامی لوگوں پر عائد کردہ غیر قانونی پابندیوں کو ختم کر کے نقل و حرکت پر مکمل آزادی دی جائے ‘ بیرونی سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں گوادر کے لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات ‘ بیرون اور اندرون ملک ٹریننگ دیں اسکاپرشپ دی جائے مقامی عوام کے پسماندگی کی خاتمے کیلئے عوام کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ یوٹیلیٹی بلز اور ٹیکس کی مد میں 30سالوں تک چھوٹ دی جائے گوادر کے مقامی لوگوں کو جدی پشتی زمینوں سے بے دخل کرنے کی بجائے زمین اصل مالکان کے حوالے کیا جائے یا انہیں معاوضہ دیا جائے گوادر میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے شراکت داری کو یقینی بنانے کے حوالے سے نیشنل اسمبلی میں قانون سازی کی جائے ‘گوادر کے تاریخی شہر کو منتقل کرنے کی بجائے پرانے شہر کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دی جائے ‘ سی پیک روٹ کے محصولات کا اختیار صوبوں کو دیا جائے ‘ اسپیشل سیکورٹی ڈویژن کا مکمل اختیار صوبوں کو دے کر مقامی باشندوں کو اولین ترجیح دے کر بھرتی کیا جائے تاکہ سی پیک اور میگا پروجیکٹس سے بلوچستان کے عوام مستفید ہو کر خوشحال زندگی بسر کر سکیں ۔