|

وقتِ اشاعت :   December 4 – 2016

کوئٹہ : بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن نے بلوچستان میں ہونے والی کاروائیوں کے دوران ماورائے عدالت قتل و گرفتاریوں کی ماہانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ نومبر کے مہینے میں بلوچستان میں ایک سو سے زائد چھاپوں اور آپریشنز کے دوران 168افراد گرفتاری کے بعد لاپتہ کردئیے گئے، جبکہ مختلف واقعات میں 114 افراد قتل کردئیے گئے۔ دورانِ حراست قتل , ٹارگٹ کلنگ اور آپریشنز کے دوران قتل کے 32واقعات پیش آئے جبکہ 26افراد ذاتی دشمنی اور نامعلوم وجوہات کی بنا پر قتل کردئیے گئے ۔ نومبر کے مہینے میں شاہ نورانی حملے کا واقعہ بھی پیش آیا جس میں 56افراد قتل اور متعدد زخمی ہوئے تھے ۔ جبکہ اسی مہینے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے اغواء ہونے والے 47افراد بازیاب بھی ہوگئے، جن میں سے بیشتر اسی مہینے کو ہی اغوء ہوئے تھے۔ جبکہ ایک درجن کے قریب بازیاب ہونے والے افراد گزشتہ چند مہینوں سے لاپتہ تھے۔بی یچ آر او کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان بدستور خون آلود ہے، اغوء کرنا، گھروں کو جلانا،آپریشنز، مسخ شدہ لاشیں اور دھماکے تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ نومبر کی 2تاریخ کو گوادر کے علاقے سے چار نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں جو کہ تمام لاپتہ افراد تھے، لیکن ایف سی کے ترجمان نے ان مقتولوں کو مذاحمت کار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں مقابلے کے دوران ہلاک کیا ہے۔ تشدد کے ان واقعات کی طویل تسلسل کی وجہ سے مایوسی عام لوگوں کے ذہنوں تک سرائیت کرچکی ہے ۔ مذہبی شدت پسندوں کے حملوں اور اغواء کے ان واقعات کی وجہ سے عام لوگ اتنے حساس ہو چکے ہیں کہ اپنے بچوں کو اسکولوں میں بھیجنے سے بھی خوف کا شکار ہیں۔ اسی مہینے کوئٹہ جیسے شہر سے درجنوں طلباء اور طالبات انہی حالات کی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر اپنے اپنے علاقے واپس ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی تشویشناک صورت حال کا زکر قومی اسمبلی کی اسٹیرنگ کمیٹی نے اپنے رپورٹ میں بھی کیا۔ کوئٹہ جیسے شہر میں جب اس طرح کی صورت حال ہو تو اندرونِ بلوچستان کی صورت حال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ بلوچستان کے کم و بیش تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگ یکساں طور پر خوف، پریشانی اور احساسِ مایوسی کا شکار ہیں۔ان سب کے باوجود افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومتی ذمہ داراں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل ناکام رہے ہیں۔