کوئٹہ : نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا ہے کہ کوئلہ پھاٹک جو طلباء، مریضوں اور سرکاری ملازمین عوام کیلئے وبال جان اور ذہنی مریض بنا دیا ہے یہ سب ہمارے سرکاری ملازمین چپڑاسی سے لے کر چیف سیکرٹری ، انجینئرز جو پل بنا نے سے پہلے کوئی متبادل راستے کا بندوبست اور منصوبہ بندی کے بغیر اور ٹریفک پولیس افسران جو نفری کم کو جواد بنا کر رش کا واویلہ کرتے ہیں ٹریفک کنٹرول کرنے کیلئے ان کے پاس پالیسی اور طریقہ کار نہیں ہے جبکہ ٹریفک عملہ گاڑی کو چالان کر نے اور موٹرسائیکل پر ڈبل سواری دیکھ پانچ چھ اہلکارو دوڑ کر حاضر ہو تے ہیں جس میں ان کے ذاتی مفادات اور افسروں کیلئے اپنے آپ کو ایماندار ثابت کر نے کیلئے یہ سب کچھ کر تے ہیں ایسے ظاہر ہو تا ہے کہ عوام مشکلات اور مسائل حل کر نے کیلئے ہمارے صوبے کے ساتھ بیورو کریسی ، عوامی نمائندگان اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے پاس عوام کے مسائل اور مشکلا ت حل کر نے میں مخلص نہیں ہے اس سے صوبے کے تمام اداروں کے افسران اور نمائندگان کا قول وفعل میں تضاد ظاہر ہو تا ہے ہمارے صوبے کے سرکاری افسران اپنے مفادات ، اقرباء پروری اور اپنے آپ کو اچھے محکمے میں پوسٹ لینے میں کوئی شرم ہار محسوس کئے بغیرکسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کر تے لیکن جہاں صوبے عوام کے مفادات مسائل ومشکلات کا موقع آتا ہے اس موقع پر یہ سب اندھے ہو کر اپنے لئے اچھے مراعات لینے کیلئے سب کچھ کر تے ہیں جس کا واضح ثبوت کوئلہ پھاٹک کے پل کا ہے اور خاص کر ہمارے مذہبی وسیاسی جماعتیں جو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور اس کا واضح ثبوت سی پیک منصوبہ ہے سب سے پہلے بالخصوص سیاسی ومذہبی جماعتیں مخالفت کر نے والوں کے خلاف بیانا ت دیتے ہیں اور سی پیک کے حمایت میں روزانہ بیانات دے کر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہم صوبے کے ترقی وخوشحالی کیلئے بلند وبانگ دعوے کر رہے ہیں اور صوبے کے مسائل اور مشکلات حل کر نے پر آنکھیں بند کئے ہیں جو صوبے کے غیور اور پسماندہ عوام کو اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار ظاہر کر تے ہوئے سیاسی مفادات حاصل کر نے میں تک ودو کر رہے ہیں اور اسلامی نظام کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھایا اسی لئے مذہب کے نام پر مختلف حصوں میں تقسیم ہوئے ہیں اور پشتون بلوچ کو اسلام کے نام پر ترقی وتعلیم سے دور رکھنے کا ذمہ داری نام نہاد مذہبی جماعتوں پر آتا ہے اور ہمارا بیورو کریسی کو بھی ایمانداری اور دیانتداری کا ثبوت دیتے ہوئے صوبے کے مسائل اور مشکلات میں اپنا حقیقت اور سچائی کا بھول بالا کر تے ہوئے ذاتی مفادات سے کوئٹہ کے شہریوں اور عوامی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے مثبت کردار ادا کر کے یہ ثابت کریں کہ ملازمت عوام کی خدمت کیلئے ہیں نہ کہ بینک بیلنس بنا نے کیلئے اور عوام کے ہمدردی کا فائدہ اٹھا تے ہوئے صوبے کے ہر تعلیم یافتہ اور اکثر اپنے ادارے میں ایماندارانہ طرز اختیار کر ے تاکہ عوام پر یہ ظاہر ہو جائے کہ افسری اور تعلیم بینک بیلنس کیلئے نہیں عوام کے مفادات کیلئے ہے۔