|

وقتِ اشاعت :   December 10 – 2016

قلات: جمعیت علماء اسلام کے سیکریٹری جنرل اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہیکہ بعض قوتیں غیروں کے آلہ کار بن کر ان کے اشاروں پر سی پیک کو ناکام بنانا طاہتے ہیں اٹھا رویں ترمین کے بعد صوبے وفاق کی منظوری سے دوسرے ممالک سے اپنے ترقی اور پراجیکٹ کے لیئے خود معاہدے کر سکتے ہیں بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے لیئے ایک ویژن ہونا چاہئے بلوچستان میں مسلم لیگ کے اتحادی نہیں چاہتے کہ جمعیت بلوچستان حکومت کا حصہ بنے اور کرپشن کے دیکھ کر ہمارے لیئے اپوزیشن بہتر ہیں اور قوم پرست خود جمعیت کو موقع فراہم کر دیا ہیں کہ اگلے الیکشن میں جمعیت کو بھر پور کامیابی ملیں جنرل راحیل شریف کی پوے ملک بلخصوص بلوچستان کراچی فاٹا میں امن کے قیام کے لیئے اقدامات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا توقع ہیکہ نئے آرمی چیف اپنے پیشرو کی طرح ملک اور بلخصوص پاکستانی سرحدات سے تخریب کاری اور دراندازی کو روکیں گے ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے اپنے رہائش گاہ پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کیا اس موقع پر جمعیت کے صوبائی سالار حافظ محمد ابرہیم لہڑی حاظ قاسم لہڑی بھی موجود تھے ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہیکہ بعض قوتیں جو غیروں کے آلہ کار بن کر ان کے اشاروں پر سی پیک کو ناکام بنانا چاہتے ہیں ہم اس سوچ کا حصہ نہیں ہیں یہ میگا پراجیکٹس ایک اہم پرا جیکٹ ہیں جو بلوچستا ن اور گوادر سے ہو کر کاشغر سے وسطی اشیاء تک جاتے ہیں میں نے کہا ہیکہ اس کے حوالے سے بلوچستان گوادر کے عوام کے جو جو تحفظات ہیں وہ دور ہوں گوادر میں مچیروں کے لیئے متبادل بندوبست ہوں وہ مطمئن ہوں جو جو اسکیمات بنتے ہیں اس میں مقامی آبادی کا خیال رکھنا چاہئے گوادر میگا سٹی بننے جارہا ہیں لہذا میگا مڈل سٹی کے بارے میں سوچنا چایئے اور اس میں ضروریات اورتقاضوں کو مد نظر رکھنا چاہئے اور یہ وضاحت ضروری ہیں جو اکنامک زون بنیگے وہ کہاں کہاں بنینگے اگر اسکے ساتھ ساتھ اکنامک زون نہیں ہیں تو یہ فقط ایک روڈ ہو گا اور اس کا عوام کیا فائدہ ہو گا جیسے موٹروے پر سفری سہولیات ہیں عوامالناس کو کوئی فائدہ نہیں اس میگا پراجیکٹ میں عوام کو روزگار اور تجارت کے مواقع ملنے چاہئے کیونکہ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن لائن گیس پائپ لائن ریلوے لائن و دیگر سہولتیں جوکہ اکنامک زون کی ضروریات ہیں خام مال کے فیکٹریاں ہو نے چاہئے جس سے بلوچستان کے عوام کی تقدیر بدل سکتی ہیں میں نے چین میں بھی کہا تھا کہ بلوچستان ایک پسماندہ علاقہ ہیں اس میں گورنمنٹ ٹو گورمنٹ اقدامات کر کے عوام کے ترقی اور خشحالی کے لیئے اقدامات کیئے جائیں ایک سوال کے جواب میں مولانا حیدری نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوؓ ں کو کافی اختیارات مل چکے ہیں صوبے اپنے ترقی اور بڑے پراجیکٹس کے لیئے وفاق کی منظوری سے دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدے کر سکتے ہیں وزیر آعلیٰ پنجاب چین ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ وفاق کی منظوری سے معاہدے کر رکھے ہیں لہذا بلوچستان کے وزیر آعلیٰ کو بھی ایسا کر نا چاہئے اور آئینی بات پر مرکز سے اشیر باد لینی چاہئے بلوچستان کے پسماندہ علاقے کے ترقی کے لیئے ایک وژن بھی ہو نا چاہئے انہوں نے کہا کہ جمعیت وفاق میں حکومت کا حصہ ہیں لیکن بلوچستان حکومت میں شامل مسلم لیگ کے اتحادی نہیں چاہتے کہ جمعیت حکومتی اتحاد کا حصہ بنے ان کے ساتھ بھی ہمارا چلنا مشکل ہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف کرپشن ہی کرپشن نظر آرہی ہیں ہم اپوزیشن میں رہ کت بہتر کام کر سکتے ہیں قوم پرستوں نے جو کردار ادا کیا ہیں انہوں نے خود جمعیت کو آئیندہ انتخابات میں کامیابی کے لیئے موقع فراہم کر دیا ہیں کہ جمعیت بھر پور کامیابی حاصل کریں۔