کوئٹہ: فرانس کی سفیر مسز مارٹن ڈورینس نے کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو)کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیااورایک اجلاس میں شرکت کی۔دورہ کے موقع پر اُن کے ہمراہ فرانس کے سابق سفیر فلپ گارنیئر،ہیڈآف اکنامک ڈیپارٹمنٹ فلپ فوئٹ، اعزازی قونصل جنرل فرانس بریگیڈئر(ر) عبدالرزاق بلوچ اوردیگرمتعلقہ افسران بھی موجودتھے جبکہ کیسکوکی جانب سے چیف ایگزیکٹو آفیسرانجینئررحمت اللہ بلوچ،چیف انجینئر(آپریشن) عبدالکریم بلوچ، ڈائریکٹرجنرل (ایچ آرایڈمن) سیدعزیرحسنی اور سینئر افسران شریک تھے اس موقع پر فرانسیسی سفیر مسز مارٹن ڈورینس نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہاکہ فرانسیسی حکومت توانائی کے شعبہ میں پاکستان اورصوبہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہاں ہے اوراس سلسلے میں گرین انرجی کے تحت ایک پروگرام شروع کررہی ہے جس کے لئے صوبہ بلوچستان کے دورافتادہ علاقے نہایت موزوں ثابت ہوسکتے ہیں۔ مسز مارٹن ڈورینس نے کہاکہ اس پروگرام کے لئے کیسکواپنے تجاویز پیش کرے۔قبل ازیں چیف ایگزیکٹوآفیسرکیسکوانجینئررحمت اللہ بلوچ نے فرانسیسی سفیر کوکیسکوکے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ کمپنی میں7000ملازمین اور6آپریشن سرکل جبکہ 31اضلاع اور 14آپریشن ڈویژن 5لاکھ80ہزارصارفین کو بجلی کی سہولیات کی فراہمی کے لئے دن رات کام کررہی ہے ۔کیسکوچیف نے کہاکہ اس وقت کیسکومختلف ذرائع سے بجلی حاصل کررہی ہے جن میں گدو۔اوچ ۔سبی ۔حبیب اللہ کوسٹل ۔تھرمل پاور 220KVدادو۔خضدار، ڈیرہ غازی خان۔لورالائی شامل ہیں۔علاوہ ازیں مستقبل کی ضروریات کو پوری کرنے کے لئے کئی منصوبے بھی زیرغورہیں۔جن میں انتہائی اہمیت کے حامل گوادرپراجیکٹ کو نیشنل گرڈسے منسلک کرنے کے لئے پی سی ۔ ون (PC-1) حکومت پاکستان کوارسال کیا جاچکاہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ سسٹم میں مزیدبہتری اوروولٹیج کی کمی پر قابوپانے کیلئے دیگرنئے منصوبے بھی تکمیل کے مراحل میں ہیں جن میں نئے گرڈسٹیشنز،ڈبل سرکٹ طویل ٹرانسمیشن لائنوں کی تعمیر بھی شامل ہیں۔کیسکوچیف نے کہاکہ کیسکوکے سسٹم پرزرعی ٹیوب ویلوں کابے تحاشابوجھ ہے جس کے لئے اب صوبائی حکومت 15ہزارٹیوب ویل شمسی توانائی پرمنتقل کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے جس کے نتیجے میں کیسکوکے سسٹم میں 450میگاواٹ بجلی کی بچت ہوگی ۔دریں اثناء فرانس کے کونسل جنرل میڈم ماری کین نے ایک پانچ رکنی وفد کے ہمراہ جامعہ بلوچستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے جامعہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال سے ملاقات کی۔ اس موقع پربرگیڈیئر ریٹائرڈ عبدالرزاق بلوچ، جامعہ کے رجسٹرار محمد طارق جوگیزئی، ٹریژرار جیند خان جمالدینی، ڈین آف فیکلٹی، سینئر اساتذہ اور دیگر متعلقہ افیسران بھی موجود تھے۔ وفد کو جامعہ کے کانفرنس ہال میں یونیورسٹی کے تعلیمی، تحقیقی سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں اور مستقبل کے پروگرام کے حوالے سے ملٹی میڈیا کے زریعے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفد کو بتایا گیا کہ جامعہ بلوچستان صوبے کا سب سے پرانا اور بڑا تعلیم ادارہ ہے۔ جو صوبے کے دور دراز علاقوں کے ہزاروں طلباء و طالبات کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کررہی ہے۔48شعبہ جات میں مختلف ڈگری پروگرامز سمیت ایم فل، پی ایچ ڈی ڈگری ایوارڈ کی جاتی ہے۔ جس کی اساتذہ کی اکثریت، اعلیٰ ڈگری کی حامل ہیں۔ جس کا شمار ملک کے اہم تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے۔ جس میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے ملکی و بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعلقات استوار کئے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر فرانسیسی جنرل کونسل نے کہا کہ مجھے انتہائی خوشی ہوئی کہ صوبے کا سب سے بڑے تعلیمی ادارے کے دورہ پر دورہ کررہا ہوں۔ جامعہ بلوچستان صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے اہم کردار ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اپنے محل وقوع اور قدرتی وسائل کے حوالے سے اہم صوبہ ہے۔ جو ملک کے بڑے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ زرعی شعبہ اور افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدوں کی وجہ سے صوبے کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے اور خاص کر سی پیک جیسے منصوبوں سے مستقبل میں اہم تبدیلیاں رونما ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ فرانس پاکستان کے ساتھ بہترتعلقات کو مزید وسعت دے رہی ہے ہے۔ مختلف شعبہ جات میں مشترکہ طور پر اقدامات کئے جارہے ہیں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ بہتر تعلقات و تعاون و اشتراک عمل اسکالرشپ پروگرام، تربیتی سرگرمیوں، ماہرین کے تبادلوں اور جدید ٹیکنالوجی کے زرائع کو مشترکہ طور پر بروء کار لایا جائے گا اور جامعہ بلوچستان کے ساتھ مقامی زبانوں، آثار قدیمہ، ثقافتی اور علمی شعبوں میں مشترکہ طور پر پروگرام ترتیب دیئے جائیں گے اور جامعہ کے ساتھ مختلف تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے گا۔ اس موقع پر وائس چانسلر نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے صوبے کے اہم تعلیمی درسگاہ کا دورہ کیا۔