|

وقتِ اشاعت :   December 15 – 2016

تربت : وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کہا ہے کہ بلوچستان میں اقتصادی راہداری منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے پہاڑوں کا سینہ چیر کر شاہراہوں کی تعمیر جاری ہے اقتصادی راہداری کی تکمیل بلوچستان کے عوام کی تقدیر بدل دیگی، سی پیک کے مشرقی اور مغربی روٹ پر سیاست کرنے والے دیکھ لیں کہ دسرے صوبوں میں سی پیک بن رہا ہے یا بنے گا لیکن ہمارے صوبے میں سی پیک بن چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہید سکندر آباد ( سوراب)ہوشاب شاہراہ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کے مہمان خصوصی وزیراعظم محمد نواز شریف تھے تقریب میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی،سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، وفاقی وزراء، سنیٹر آغا شہباز درانی، چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ، کمانڈر سدرن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض، آئی جی پولیس احسن محبوب، وائس چےئرمین بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ خواجہ ہمایوں نظامی ، علاقے کے معززین اورسول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی ۔ 22ارب روپے کی لاگت سے 448کلو میٹر طویل شاہراہ ایف ڈبلیو او نے اڑھائی سال کی مدت میں مکمل کی ہے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سی پیک پر عملدرآمد اور اس میں شامل ذرائع مواصلات کی ترقی بلوچستان کے عوام کو ایک نئے غیر معمولی اور توانا ترقیاتی عمل سے متعارف کرائے گی جو نہ صرف علاقے کی معاشی ترقی کی بنیاد بنے گا بلکہ سماجی و ثقافتی اور معاشی اعتبار سے بھی ہمیں مہذب اور ترقی یافتہ دنیا کا حصہ بنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک خطے میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ منصوبہ وزیراعظم محمد نواز شریف کی خصوصی دلچسپی کا مرہون منت ہے جنہوں نے 2013میں طویل عرصہ سے التواء کے شکار اس منصوبے پر کام کا آغاز کرایا سی پیک کے مغربی روٹ کی اس شاہراہ کی تعمیر سے علاقے کی زرعی و معدنی پیداوار کی بڑی منڈیوں تک رسائی ممکن ہوگی۔ دور دراز علاقوں کے لوگوں کو علاج و معالجہ اور دیگر ضروریات کیلئے بڑے شہروں تک آنے جانے کی سہولت ملے گی اور علاقے میں تعمیر و ترقی کی سرگرمیاں تیز ہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مشرقی روٹ پر کام ہورہا ہے اور مغربی روٹ پر نہیں ہورہا تو وہ دیکھ لیں کہ بلوچستان میں سی پیک میں شامل شاہراہوں کو تیزی سے مکمل کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبوں میں سی پیک بن رہا ہے یا بنے گا لیکن بلوچستان میں سی پیک بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ میں گوادر بندرگاہ کو کلیدی اہمیت حاصل ہے جس کے پیش نظر حکومت گوادر بندرگاہ اور گوادر کے دیگر ترقیاتی منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد کررہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقی کے عمل میں شاہراہوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں بنیادی ڈھانچے ا ور شاہراہوں کی تعمیر کسی بھی علاقے میں سرمایہ کاری اور ترقی کی راہ کھولنے کیلئے اولین قدم ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ سی پیک جیسے غیر معمولی ترقیاتی منصوبے میں ذرائع مواصلات کی ترقی خاص طور سے شاہراہوں کا جال بچھانے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کا کریڈٹ وزیراعظم محمد نواز شریف کو جاتا ہے جن کی ذاتی دلچسپی اور اہلیان بلوچستان کے ساتھ ان کی خصوصی محبت کے باعث صوبے میں حقیقی ترقی کے عمل کا آغاز ہوا ہے۔ وزیراعظم نے عام انتخابات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ بلوچستان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا ازالہ کریں گے اور صوبے اور اس کے عوام کے حالات بہتر بنانے کیلئے کام کریں گے۔ وزیراعظم نے برسراقتدار آنے کے بعد سے بلوچستان کے حالات بہتر بنانے میں جس ذاتی توجہ اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے وعدوں کو احسن طریقے سے پورا کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم کی یہاں موجودگی اور بار بار بلوچستان کے دورے ہمارے لئے باعث حوصلہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنا بلوچستان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے اور خاص طور سے بلوچستان کے ساحلی علاقوں کو روڈ نیٹ ورک کا حصہ بنانے کیلئے کئی ایک منصوبے جاری ہیں این 25-کا قلات کوئٹہ چمن سیکشن ، گوادر تربت ہوشاب سیکشن اور خضدار شہداد کوٹ ، رتو ڈیرو شاہراہ پر تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے این85-، ہوشاب ناگ بسیمہ، شہید سکندر آباد ( سوراب)شاہراہ کی توسیع اور بہتری کا کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ ژوب مغل کوٹ روڈ کا 60فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ بلوچستان میں شاہراہوں کی تعمیر کے منصوبوں کیلئے مطلوبہ فنڈز کے بروقت اجراء کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان منصوبوں کی تکمیل یقینی ہوسکے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ شاہراہوں کی تعمیر تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں لاتی ہیں۔ ہوشاب شہید سکندر آباد شاہراہ کی تعمیر سے گوادر اور تربت سے کوئٹہ تک کا فاصلہ سات سے آٹھ گھنٹوں میں طے ہوگا جو اس سے پہلے 24سے زائد گھنٹوں میں طے کیا جاتا تھا جو کہ ایک انقلابی تبدیلی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر شاہراہ کے تعمیر کے دوران شہید ہونے والے ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں اور دیگر افراد کو خراج عقیدت پیش کیا۔ قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل ایف ڈبلیو او لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔