|

وقتِ اشاعت :   December 17 – 2016

اسلام آباد : وزیر مملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمن نے ایوان بالا میں سیاسی قیدیوں پر بحث کے حوالے سے تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہیدوں کی قربانیاں رنگ لے آئیں اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے‘ نیشنل ایکشن پلان کی یہ کامیابی ہے کہ دہشت گردی کا زور کم ہوچکا ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے‘ ماضی میں بہت بڑے واقعات کا سراغ نہیں ملتا تھا آج صفورا گوٹھ سمیت دیگر واقعات پر حکومت مجرموں تک پہنچ چکی ہے اس وقت ملک میں کوئی سیاسی قیدی موجود نہیں‘ ڈاکٹر عاصم‘ وسیم اختر‘ علی نواز رند سمیت جن کا ایوان میں تذکرہ کیا گیا ان کا سندھ سے تعلق ہے اور لاء اینڈ آرڈر صوبوں کا معاملہ ہے‘ وفاق کی اس میں کوئی مداخلت نہیں‘ رینجرز کو صوبوں کی درخواست پر تعینات کیا جاتا ہے‘ سیاسی مفاد کی خاطر سیاسی قیدی بنانے کی حکومت مذمت کرتی ہے‘ سیاسی مصلحتوں کو آڑے نہیں آنے دینا چاہئے‘ اداروں کو اپنا کام کرنے دینا چاہئے‘ اس وقت ملک میں کوئی سیاسی قیدی موجود نہیں ہے‘ ارکان سینٹ کا کہنا تھا کہ ملک میں جنتی حکمران بننے کی ریس لگی ہوئی ہے، بلوچستان میں ڈمپ اور کلنگ کے خلاف قانون سازی ہونی چاہیے‘ معاملے پر ایوان بالا کی کمیٹی بنائی جائے‘ جن کالعدم جماعتوں کے سربراہوں کو جیل میں ہونا چاہیے تھا،ان سے ہمارے وزیرداخلہ ملاقات کررہے ہیں‘ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری پر فخرکرنیوالے شیر علی کے رانا ثناء اللہ پر 20 افراد کے قاتل ہونے کے الزامات کی بھی وضاحت کردیں ، پانامہ لیکس کا کیس دنیا کا سب بڑا کرپشن کا کیس ہے ،اس سے جان کیسے چھڑائیں گے‘ عطاء الرحمان نے کہاکہ یہاں جی ایچ کیو کو سلام کرکے حکومتیں بنتی ہیں،20سال میں پاکستان میں بلواستہ یا بلاواستہ اداروں کی حکمرانی رہی ہے،اداروں سے ڈیلنگ کے بنا کوئی حکومت نہیں بنی،جیلوں میں ڈالے جانے والے سیاسی قیدی ہی ہیں نام کرپشن کا دیا گیا ہے،ہمیں اپنی پالیسیاں خود بنانا ہوں گی۔ جمعہ کو سینٹ میں سیاسی قیدیوں پ کے حوالے سے تحریک پر بحث کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ اس معاملے پر قانون سازی کا وقت آگیا ہے،سیاسی قیدیوں کو نشانہ نہیں بننا چاہیے۔سینیٹر تنویر حسین نے کہامیں جمہوریت اور آمریت میں جیل کاٹ چکا ہوں،ہمیں اپنے رویوں پرغور کرنا ہوگا،جب تک اپنی اصلاح خود نہیں کریں گے،کچھ بہتر نہیں ہوسکتا ،کچھ جمہوری دور بھی ایسے گزرے ہیں جن میں اچھی روایت نہیں ڈالی گئی،مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھائے جارہے ہیں،جولوگ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے وہ پوری دنیا کے سامنے ایکسپوز ہورہے ہیں،لیاقت علی خان کے دور سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور تک سیاسی لوگوں کو سزا دی گئی،سیاسی قتل ہوئے لیکن آج ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھا ہے ،آج اللہ کے شکر سے جیل میں کوئی سیاسی قیدی نہیں۔انہوں نے کہاکہ کسی حل پر گھر کے لوگ حکومت پر تنقید کرتے ہیں تو دل کرتا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی ہو، لیکن جمہوریت میں مخالفین کو سیاسی انتظام کا نشانہ بنایا جاتا،ٹی وی پر بیٹھ کر جھوٹے الزامات لگانے کے حوالے سے بھی قانون سازی ہونی چاہیے۔سینیٹر جہانزیب جمالدین نے کہاکہ بلوچستان میں حالات جیسے مشرف کے دور میں تھے،اب بھی ویسے ہی ہیں،10,10لاشیں ایک جگہ یہ دبا دی جاتی ہیں،مشرف کے دور میں جب ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھاتے تو کہا جاتا تھا کہ آمریت ہے لیکن گذشتہ سیاسی حکومت کے دور میں جتنے ظلم و ستم ہوئے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،بلوچستان میں تو کسی کو سیاسی قیدی ہی نہیں مانا جاتا،صوبے کی خودمختاری مانگنے پر 15,20سال کیلئے قید میں ڈال دیا جاتا ہے،کوئی پوچھنے والا نہیں،کسی کو بھی دہشتگرد قرار دے کر اٹھالیا جاتا ہے،پھر ماردیا جاتا ہے،اگر کوئی دہشتگرد ہے تو اس کا ٹرائل ہو،عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے اگر اس پر کوئی الزام ثابت ہوتا ہے تو سزا دی جائے،ملک میں جنتی حکمران بننے کی ریس لگی ہوئی ہے،دونوں طرف سے قانون لانا چاہیے کہ بلوچستان میں ڈمپ اور کلنگ کے خلاف قانون سازی ہونی چاہیے،میں بل لاؤں گا تو کوئی غور نہیں کرے گا،محبت دیں گے تو محبت ملے گی،نفرت بوئیں گے تو نفرت ملے گی،بلوچستان کے معاملات پر غور کیا جائے،کمیٹی بنادی جائے،ورنہ دیر ہوگئی تو کوئی نہیں جانتا کہ نتیجہ کیا نکلے گا۔چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہاکہ مجھے بلوچستان کے معاملے پر کمیٹی بنانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ظفر الحق صاحب تحریک پیش کردیں۔پیر کو اس پر کمیٹی بنادی گے۔سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاکہ پاکستان بنانے کیلئے نہ صرف سیاسی لوگوں بلکہ میڈیا ،ادیبوں اور دیگر بھٹوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں،اگر یہ لوگ ان قربانیوں سے گزرے ہوتے تو آج ٹی وی پر بیٹھ کر تنقید نہ کرتے،حبیب جالب کو ایک نظم کہنے پر 10سال جیل ہوئی، 1956اور 1958کے مارشل لاء میں اخبارات نکالنا بند کرادئیے گئے،اس ملک کا نظام مذا ق نہیں،ان لوگوں کا محاسبہ ہونا چاہیے جو سول ملٹری تعلقات پر تنقید کرتے ہیں،ان کو پتا کسی چیز کا نہیں ہوتا اور تبصرہ نگار بن کر ٹی وی پر بیٹھے ہوئے ہیں،اس ملک میں 2قسم کے ڈکٹیٹر آئے،ایک وہ وردی میں اور ایک سوٹ میں تھے،بلوچستان میں ایوب خان کے ور میں بھی چرھائی ہوئی،1973,74میں راولپنڈی میں میں نے اپنی آنکھون سے لوگوں کا قتل عام ہوا،ضیا ء الحق کا دور بھی سیا ہ ترین دور تھا،2009میں راجہ ظفر الحق سینیٹر منتخب ہوئے جس دن انہوں نے حلف اٹھانا تھا،پولیس ان کے گھر پہنچ گئی تھی،سینیٹر سردار اعظم خان موسیٰ خیل نے کہاکہ 12مئی کو کراچی میں جن لوگوں کو شہیدکیا گیا کوئٹہ میں قتل عام کے چھ بڑے واقعات ہوئے لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ملک میں اکتیس ایجنسیاں کام کرتی ہیں لیکن کسی کو گرفتار نہیں کرسکیں۔ ہم یہ قتل کس کے کھاتے میں ڈالیں بلوچستان کا موجودہ چیف سیکرٹری قاتل ہے۔ سیاسی کارکنوں کو قتل کروا رہا ہے چیف سیکرٹری بلوچستان میں متوازی حکومت چلا رہا ہے سیاسی قیدیوں خی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ جمہوری روایتوں میں سیاسی قیدی نہیں ہونا چاہئے۔ یہ روایت ہماری جماعت کے گزشتہ دور حکومت میں ڈالی گئی جس کا کریڈٹ آصف علی زرداری کو جاتا ہے پیپلز پارٹی کے سیاسی قیدیوں کی لسٹ بہت لمبی ہے ملٹری کورٹ نے میری والدہ کو سزا دی صوبہ بدر کیا گیا ہم نے اپنا بچپن جیلوں کے سامنے گزارا ہے۔ جمہوری حکومت اور آمریت میں سیاسی لوگوں کو جیلوں میں ڈالنا جمہوری روایت پر دھبہ ہے جس کی ہر کوئی الزام ہے اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں ڈاکٹر عاصم حسین ہوں یا کوئی اور الزامات لگانے کے بعد جیل ممیں ڈال دیا جاتا ہے لیکن پنجاب جیسے بڑے صوبے کی طرف نہ نیب جاتی ہے نہ رینجرز جب دہشت گردوں کے پنجاب میں موجود ہونے کی باتیں چلتی ہیں تو رانا ثناء اﷲ کہتے ہیں کہ ہماری خودمختاری پر حملہ ہے توپوں کا رخ سندھ کی طرف موڑ دیا جاتا ہے مشاہد اللہ خان کو اپنی تقریر میں روحانی والد ضیاء الحق کے مظالم کا ذکر بھی کرنا چاہیے تھا۔سینیٹر تاج حیدر نے کہاکہ آج کاروباری مسابقت رکھنے والے لوگوں کو بھی جیل میں ڈالاجارہا ہے۔بول ٹی وی کے مالکان اس کی مثال ہیں،بلوچستان کے معاملے پرہول کمیٹی کی تائیدکرتے ہیں،جانے پہچانے دہشتگرد آزاد پھر رہے ہیں،کالعدم تنظیموں کے رہنما انتخابات میں حصہ لیتے ہیں جبکہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔