|

وقتِ اشاعت :   December 17 – 2016

نوشکی : مردم شماری تحفظات دور کئے بغیر قابل قبول نہیں 60فیصد بلوچ شناختی کارڈز سے محروم ہیں مردم شماری بلوچ قوم کومزید محرومی سے دوچار کریں گے بلوچ ساحل وسائل پر مکمل حق حاکمیت چاہتے ہیں ترقی و خوشحالی کے مخالف ہیں نہ مردم شماری مگر جعلی مردم شماری قابل قبول نہیں ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ‘ بابو رحیم مینگل ‘ یونس بلوچ ‘ ثناء جمالدینی ‘ عزیز اللہ بادینی ‘ میر غلام رسول مینگل ‘ عزیز اللہ شاہوانی ‘ میر غلام حیدر بادینی نے بادینی ہاؤس نوشکی میں ظہرانے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا مقررین نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی ‘ آواران ‘ کوہلو ‘ مکران ‘ جھالاوان کے اکثریتی علاقوں کے بلوچ اقوام مشرف آپریشن کے سبب دیگر علاقوں اور صوبے سے باہر ہجرت کر چکے ہیں 60فیصد بلوچ شناختی کارڈز سے محروم ہیں 40لاکھ افغان مہاجرین جنہوں نے قومی شہریت حاصل کر لی گئی ہے اس کے موقع بلوچوں کے خدشات و تحفظات کو مد نظر رکھے ہوئے مردم شماری کروانا بلوچ دشمن اقدام ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکمران اب کھلم کھلا بلوچ دشمنی پر اتر آئے ہیں بلوچ سرزمین جو ساحل وسائل اور معدنی دولت سے مالا مال ہیں بلوچ تیل و گیس اور بے شمار قدرتی دولت جو آج تک بلوچوں کے استعمال میں نہیں لائی گئی ہر دور میں لوٹ مار کا بازار گرم رکھا گیا کوئی بھی باشعور انسان ترقی کے خلاف نہیں ہو سکا لیکن ماضی میں بلوچ وسائل کو لوٹ گیا مگر بلوچوں کو مستفید نہیں ہونے دیا گیا بلوچوں کو مزید بدحالی کی جانب دھکیلا گیا مقررین نے کہا کہ مردم شماری اقوام کیلئے موت و ذیست کا مسئلہ ہے صاف شفاف مردم شماری کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا 2013ء کے جعلی انتخابات کے طرح حکمران اپنی کے نتائج لانا چاہتے ہیں تو ایسی مردم شماری کی کوئی افادیت ہو گی نہ ہی اسے قبول کیا جائے گا لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کوئٹہ سمیت بلوچستان میں آباد ہیں 2011میں خانہ شماری میں برملا یہ کہا گیا کہ مہاجرین کی وجہ سے 400فیصد اضافہ ہو گا اس کے باوجود حکمران چاہتے ہیں کہ مردم شماری ہو تو یہ بلوچوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف عمل ہو گا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکمران آج بھی بلوچوں کے خلاف سازشیں بند کی ہیں نہ ہی مشکلات کے حل کیلئے عملی اقدام کئے گئے ہم ترقی چاہتے ہیں لیکن ہماری تہذیب ‘ تمدن ‘ تاریخ ‘ زبان ترقی سے زیادہ اہمیت کا حامل سی پیک سمیت مردم شماری کے مخالف نہیں مگر اگر خدشات کو دور نہ کیا گیا تو محرومیوں کا ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جائیگا صوبے میں عوام تمام سہولیات سے محروم ہیں تعلیم میں بھی شاؤنسٹ سوچ رکھنا باعث تشویش عمل ہے میر چاکر رند اور وڈھ یونیورسٹی کے قیام میں روڑے اٹکانا علم دشمن اقدام ہے تعلیمی ایمر جنسی کے دعوے کئے گئے لیکن عملاً حکمرانوں نے تعلیم کے فروغ کے بجائے اسے زبوں حالی کی جانب دھکیلا گیا بی این پی قومی جماعت ہونے کے ناطے اصولی موقف کے ذریعے سرزمین کی حفاظت ‘ بقاء ‘ قومی تشخص کی جدوجہد کو پروان چڑھا رہی ہے اس کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگاپارٹی قائد سردار اخترجان مینگل کی قیادت میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔