|

وقتِ اشاعت :   December 19 – 2016

تربت: بلوچستان کے سابق وزیر اعلٰی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ بلوچستان کے وطنی مفادات کے تحفظ و نگہبانی کے تاریخی قومی تحریک کے تسلسل کا نام ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا مطمع نظر اگر اقتدار ہوتا تو نہ دو ہزار دو کے الیکشن میں اسٹبلشمنٹ کے آفر کو ٹھکراتے اور نہ دو ہزار آٹھ کے الیکشن میں بائیکاٹ پر جاتے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز نیشنل پارٹی کیچ کے زیر اہتمام پارٹی سے منسلک انٹللکچول کے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ علم و شعور اور ٹیکنالوجی کے اس صدی میں بلوچ معاشرہ کے اندر ستر اور اسَی کی دہائی کی نسبت آج انتہاپسندی اور منفی رجحانات زیادہ گہرائی سے سرائیت کرچکی ہیں، آج سے بیس تیس سال قبل بلوچ معاشرہ زیادہ روشن خیال اور ترقی پسندانہ فکر کی حامل رہی ہے، انہوں نے اس امر کو لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج دانشوروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان اسباب اور عوامل کا گھوج لگانے کے لیے سر جھوڑ کر بیٹھیں، قوم کی رہنماء اور تاریخی و قومی شعور کی اجاگر کرنے کے ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت آگیا ہے کہ ہم اس دانشوارانہ سوال پر بحث کا آغاز کریں کہ آیا گزشتہ بارہ تیرہ سالوں سے بلوچ معاشرہ میں سیاسی عمل پر بزور شمشیر قدغن کے نتائج آج مثبت برآمد ہورہے ہیں یا منفی؟ انہوں نے کہا کہ انسانی معاشرہ نہ تو جامد ہوتا ہے اور نہ ہی اس میں خلاء پیدا ہوتا ہے بلکہ انسانی معاشرہ تغیر و تبدیلی کے مراحل سے ہمہ وقت گزرتا رہتا ہے اگر آپ مثبت عمل کو روکیں گے تو منفی عمل لازمی طور پر آگے جائے گا اور سرائیت کریگا، مثبت عمل پر قدغن کا یہ مطلب ہے کہ آپ منفی عمل کے ابھار اور اڑان کے لیے راہیں کھول رہے ہیں، انہوں نے کہا آج بلوچ قومی شناخت متقاضی ہے کہ بلوچ سیاسی لیڈرشپ سطحی اور غیر حقیقی نعرہ بازیوں کے حصار سے باہر نکلتے ہوئے مدبرانہ اور سنجیدہ و پختہ سیاسی حکمت عملی کے ذریعے مربوط اور معکم رہنمایانہ کردار ادا کرے۔ انہوں نے متوقع مردم شماری کو بلوچ کے قومی مرگ و زیست کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی اس مسلے کو انتہائی نازک قومی مسئلہ سمجھتے ہوئے اس پر ازحد سنجیدہ ہے اور ہم اس ایشو پر عنقریب پارٹی کے بالاء اداروں سے رجوع کرتے ہوئے ایک قومی حکمت عملی مرتب کرکے دیگر بلوچ سیاسی جماعتوں کو دستک دینگے اور دست بستہ گزارش کرینگے کہ آئیں بلوچ کے مرگ و زیست کے اس نازک مسئلے پر ایک ہوجائیں اور قومی بنیادوں پر مشترکہ طور پر اسکا مقابلہ کریں۔ اس موقع پر پارٹی کے ضلعی صدر محمدطاہر بلوچ، حلیم بلوچ، مشکور انور اور دیگر رہنماء بھی انکے ہمراہ تھے۔