وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سرائیو میں بوسنیا کے وزیراعظم نے ڈینس وزڈچ سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بھی گفتگو کی۔
ملاقات کے بعد بوسنیا کے وزیراعظم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ بوسنیا کے ساتھ ٹیکسٹائل اور زراعت کے شعبے میں تعاون چاہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے مسئلے کے حل کے لیے کوئلے اور ہائیڈرو پاور پروجیکٹس میں تعاون پر بوسنیا کے وزیراعظم سے بات ہوئی ہے، بوسنیا سے تجارت، صنعت اور تعلیم کے شعبے میں تعاون بڑھانےپر بھی اتفاق ہوا ہے۔
وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت پراطمینان کااظہارکیا گیا، ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کےتمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سےتعلقات بڑھانے کی بوسنیا کی کوششیں قابل تعریف ہیں، خوبصورت اور تاریخی شہر آکر بہت خوشی ہوئی۔
نواز شریف نے کہا کہ بوسنیا کے وزیراعظم سے انتہائی مفید بات چیت ہوئی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں ترقی اورشرح نمو میں اضافہ ہواہے، مختلف شعبوں میں تعاون کےلیے پاکستان سے وفود بھیجنے پر کام کریں گے، بوسنیا میں لکڑی اورٹیکسٹائل کی مستحکم صنعت موجودہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق منگل کو بوسنیا پہنچنے پر وزیراعظم نواز شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا، ان کے سرخ قالین استقبال کے موقع پر خوش آمدید کہنے کے لیے خود بوسنیا کے وزیراعظم بھی موجود تھے۔
اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا جبکہ وزیراعظم کے ہمراہ خاتون اول بیگم کلثوم نواز اور معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی بھی تھے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف 20 دسمبر کو بوسنیا کے لیے روانہ ہوئے تھے اور ان کی روانگی سے قبل یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ وزیراعظم 3 روزہ دورے پر پی آئی اے کے طیارے بوئنگ 777 میں بوسنیا روانہ ہوں گے جس کے باعث مالیاتی خسارے کی شکار قومی ایئرلائن کے معاشی بوجھ میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔
قومی ایئرلائن کے ترجمان نے اس حوالے سے کہا تھا کہ وزیراعظم کو بوئنگ 777 دفتر خارجہ کی ہدایت پر دیا گیا ہے، جسے 2 روز کے لیے طلب کیا گیا تھا۔