|

وقتِ اشاعت :   December 27 – 2016

کوئٹہ : نوابزدہ حاجی میر لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ آئینی قانونی اور اصولی بنیاد پر کرائے جانی والی مردم شماری قابل اعتراض نہیں لیکن غیر ملکیوں کو مردم شماری کا حصہ بنا ئے جانے کے خدشات کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتاجعلی دستاویزات کے حامل مہا جرین کو مردم شماری میں شامل کرنے سے وفاق اور صوبوں کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے جو ملکی سالمیت کے لئے نیک شگون نہیں سیاسی جماعتوں کو حق حاصل ہے کہ عوامی حلقوں کے تحفظ اور حصول کے لئے آواز اٹھائیں لیکن ایسا کرتے وقت انہیں آئین قانون اور دوسروں کے حقوق کا احترام بھی کر نا ہو گابعض عناصر جن کی سیاست کی بنیادی ہی نسلی اور لسانی تعصبات پر استوار ہیں وہ بلوچ پشتون برادر اقوام کے درمیان نفرت انگیز ی کے ذریعے مردم شماری کے ایشو کو متنازعہ بنا رہے ہیں جبکہ حقیقت میں مردم شماری صرف بلوچوں ہی کا نہیں پشتونوں کے مستقبل کا سوال سے بھی وابستہ ہے اس لئے بلوچستانیوں کے اجتماعی مفاد پر ساز باز کی اجازت نہیں دی جا سکتی نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی نے بلوچستان کے تمام حقیقی باشندوں ، سیاسی جماعتوں، سیاسی کارکنوں، طالب علموں اور خصوصاً اہل دانش سے اپیل کی ہے کہ وہ مجوزہ مردم شماری کے لئے اصولی موقف اپنائیں اور غیر ملکیوں کی مردم شماری میں شامل کئے جانے کی بھر پور مخالفت کریں۔