کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس محمد کامران خان ملاخیل پر مشتمل بینچ نے سانحہ 8اگست کے حوالے عبدالوالی و دیگر کی جانب حکومت بلوچستان سے کے خلاف دائر آئینی پٹیشن 1183/2016 کی سماعت کی اس موقع پر درخواست گذار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 8 اگست 2016 کو سول ہسپتال میں رونما ہونے والے المناک سانحہ میں سو سے زائد لوگ زخمی جبکہ 70افراد شہید ہوئے جن میں 56وکلاء شامل تھے بلوچستان بار کونسل کی جاری کردہ فہرست میں بتایاگیا ہے کہ واقعہ میں 92وکلاء زخمی ہوئے حکومت بلوچستان نے حال ہی میں شہید وکلاء کے لواحقین کیلئے بطور زرتلافی 10ملین روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا ہے جبکہ زخمی وکلاء کو تین درجوں میں تقسیم کیاگیا ہے درجہ اے پلس میں 19وکلاء کیلئے7.5ملین، درجہ اے شامل 27وکلاء کیلئے 3ملین جبکہ درجہ بی میں شامل 43وکلاء کیلئے ایک ملین گرانٹ بطور زر تلافی کا اعلان کیاگیا ہے وکلاء کی اس درجہ بندی کے تعین میں نہ تو قواعد و ضوابط کو مد نظر رکھاگیا ہے نہ ہی یہ فہرستیں متاثرہ وکلاء کی موجودگی میں مرتب کی گئی ہیں جبکہ ان میں اکثریت اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہے۔ انہوں نے مذکورہ درجہ بندی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ زخمی وکلاء کے میڈیکل ریکارڈسے رجوع کیلئے بغیر درجہ بندی کرنا شہریوں کے مساوی حیثیت اور برابری کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت بلوچستان نے پہلے ہر زخمی کیلئے 5ملین روپے کا اعلان کیا مگر بعد میں مذکورہ درجہ بندی متعارف کراتے ہوئے کسی بھی زخمی سے اس کی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کو نہیں کہاگیا۔ عدالت کے استفسار پر درخواست گذارکے وکیل نے بتایا کسی بھی عام شہری کیلئے زر تلافی کا اعلان نہیں کیاگیا جبکہ شہید ہونے والے عام شہریوں کیلئے دیا جانے والے زر تلافی بھی شہید وکلاء سے مختلف ہے۔ عدالت نے اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صرف وکلاء کو زر تلافی دیا جارہا ہے۔ جوکہ غیر مطمئن ہیں۔ عدالت نے زخمی وکلاء کی درجہ بندی پر بھی اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا جبکہ عدالت نے واقعہ کے دیگر متاثرین ( شہید /زخمی) شہریوں کو بھی مناسب طور پر زر تلافی نہ دےئے جانے کو بھی آئین میں درج انسانی حقوق سے روح گردانی قرار دیتے ہوئے حکومتی نمائندہ کو آئندہ سماعت پر عدالتی حکمنامہ کے ہمراہ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت کیلئے28دسمبر 2016کی تاریخ مقرر کی ہے۔