کوئٹہ: بلوچستان صوبائی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین عبدالمجید خان اچکزئی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر سمال ڈیمز عمران رحیم درانی نے سو ڈیموں کے بارے مین چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بریفنگ دی۔ اس موقع پر چیئرمین عبدالمجید خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ ان سو ڈیموں کی تعمیر سے بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں زراعت اور پینے کے لئے پانی کا مسئلہ حل ہوجائے گا لیکن ڈیموں کی تعمیر سے میں بذات خود مطمئن نہیں ہوں۔ قلعہ عبداللہ میں تعمیر ہونے والے ڈیم میں پانی کا ذخیرہ بہت کم ہوتا ہے جو کہ پانی کے بہاؤ کے مخالف سمت میں تعمیر کیا گیا ہے۔ علاقے کے دورے کے دوران آر جی ڈیم کامعائنہ کیا تو بالکل خشک پایا گیا جس پر کروڑوں روپے کی لاگت آئی ہے۔ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی عبدالمجید اچکزئی نے مزید کہا کہ گوادر میں بھی لوگوں کی کثیر آبادی پینے کے صاف پانی کے لئے ترس رہی ہے، گوادر میں ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے جہاں پر لوگوں کی آبادی زیادہ ہو وہاں پر پانی کی قلت پر قابو پایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خشک سالی اور پانی کی قلت کی وجہ سے اکثر دیہی علاقوں کی زراعت تباہ ہوگئی ہے۔ بلوچستان کے دیہی علاقوں کے لوگوں کا زیادہ تر معاشی انحصار زراعت پر ہے۔ خشک سالی اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی کثیر آبادی شہری علاقوں کی طرف منتقل ہورہی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صوبے کے دوردراز علاقوں میں مون سون کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیلے ایکشن ڈیمز تعمیر کئے جائیں تاکہ دیہی علاقوں میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل ہوسکے اور زراعت کو بھی فروغ مل سکے۔