|

وقتِ اشاعت :   February 11 – 2017

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے امیگریشن ایگزیکٹو آرڈر میں قانونی شکست کے بعد آئندہ ہفتے ایک اور آرڈر جاری کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ وہ ملک کی سیکیورٹی کے لیے بہترین انتظامات کریں گے۔ سات مسلم ممالک کے شہریوں پر پابندی برقرار رکھنے کی نظرثانی درخواست مسترد ہونے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں عدالتی جنگ لڑنے کے لیے وقت نہیں ہے، ملکی سلامتی کے لیے تیز ترین اقدام کی ضرورت ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ عدالتی جنگ میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ وہ جنگ ہم ہی جیتیں گے، مگر ہم اس کے علاوہ دوسرے راستے بھی استعمال کر سکتے ہیں، جیسے ہم ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرسکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نئے ایگزیکٹو آرڈر کے حوالے سے کوئی بھی کارروائی آنے والے ہفتے میں ہوگی۔ نئے آرڈر کے مسودے سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ملکی سیکیورٹی کے لیے قلیل مدتی اقدامات اٹھانا چاہتے ہیں، اس حوالے سے نیا آرڈر ہی بہتر ہے۔ اس بیان سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان کے وزیر اعظم شنزو ابے کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ’ انہیں ملک کو بڑے خطرات سے متعلق پتہ چلا ہے، وہ اپنے ملک کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’وہ اپنے ملک کو نقصان پہنچانے والے افراد کو ملک میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔ انہوں نے مزید کہا’وہ ان لوگوں کو ملک میں خوش آمدید کہیں گے جو امریکا اور اس کے عوام سے پیار کریں گے‘۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا امیگریشن آرڈر ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا، جب کہ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ نیا آرڈر کس حوالے سے ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے ایگزیکٹو آرڈر کو واشنگٹن کی لوکل عدالت نے معطل کردیا تھا، جس کے بعد امریکی محکمہ انصاف نے سان فرانسسکو کی اپیل کورٹ میں نظرثانی درخواست جمع کرائی تھی، جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔ عدالت نے نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ وہ مقامی عدالت کا فیصلہ معطل نہیں کرسکتی۔ نظرثانی درخواست مسترد ہوجانے کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ معاملے کو سپریم کورٹ لے جائے گی، جس کا عندیہ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں بھی دیا تھا۔ تاہم اب امریکی صدر کی جانب سے سپریم کورٹ میں جانے کے بجائے نیا حکم نامہ جاری کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ جنوری کے آخری ہفتے میں جاری کیے گئے اپنے پہلے ایگزیکٹو آرڈر میں تارکین وطن کے داخلے کا پروگرام معطل کرتے ہوئے 7 مسلم ممالک ایران، عراق، شام، لبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں پر امریکا آمد پر پابندی عائد کردی تھی۔