اسلام آباد:بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پارٹی کی جانب سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے مردم شماری سے متعلق نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی جس کی سماعت 22فروری کو عدالت عظمیٰ میں ہوئی معزز عدالت نے نظرثانی درخواست میں حکم دیا کہ کسی کو بھی مردم شماری کرانے کے طریقہ کار پر اعتراض ہے تو متعلقہ ادارہ شماریات سے رابطہ کرے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر عدالت عظمیٰ نے درخواست خارج کر دی اس بابت پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ، زبیر بلوچ نے مردم شماری کرانے کے طریقہ کار پر اعتراض سے متعلق اسلام آباد میں ادارہ شماریات کے چیف انسپکشن شماریات آصف باجوہ اور نادرا چیئرمین کے پرسنل سیکرٹری سے ملاقاتیں کی پارٹی کی جانب سے جو تحفظات اور خدشات تھے تحفظات سے متعلق ڈرافٹ انہیں پیش کیا جس میں خدشات و تحفظات یہ تھیں کہ مردم شماری اور خانہ شماری ہونے جا رہی ہے جبکہ بلوچستان میں چالیس لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری کیسے صاف شفاف ہوگی جبکہ 90 ہزار شناختی کارڈز بلاک اور3لاکھ سے زائد کی تفتیش کی جا رہی ہے جس سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بلوچستان میں لاکھوں افغان مہاجرین خاندان موجود ہیں اسی طرح اکثریتی اضلاع کی مخدوش صورتحال کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں بلوچ اپنے علاقوں سے ہجرت کر کے ملک کے دوسرے صوبوں ، علاقوں میں جا چکے ہیں آیا ان کی غیر موجودگی میں ان علاقوں میں جب انہیں شمار نہیں کیا جائیگا تو یہ غیر قانونی ، غیر آئینی اقدام نہیں ہو گا بلوچستان کی اتنی بڑی آبادی کو شمار کئے بغیر خانہ شماری ، مردم شماری بلوچ قوم کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگی صاف شفاف مردم شماری تب ہی ممکن ہو گی جب غیر ملکیوں کو شمار نہ کیا جائے اور بحالت مجبوری ہجرت کرنے والوں کی شماری کو یقینی بنایا جائے تب ہی مردم شماری کے مثبت ثمرات سامنے آئیں گے آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ نے آصف باجوہ سے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ 2011ء میں خانہ شماری بلوچستان میں ہوئی تھی تو اس دور کے سیکرٹری شماریات نے انکشاف کیا تھا کہ بلوچستان کے پشتون علاقوں میں افغان مہاجرین کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں بڑی حد تک بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں اور آبادی کا تناسب 4سو سے 5سو فیصد تک بڑھ چکا ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ شماریات اور نادرا کے اداروں کو پارٹی کی جانب سے تحفظات و خدشات کا ڈرافٹ پیش کرنے کا مقصد یہی ہے کہ متعلقہ اداروں کے ارباب و اختیار کو مردم شماری ، خانہ شماری پر اعتراضات کے حوالے سے وقتاً فوقتاً آگاہی دیتے رہیں انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی حکمران اور متعلقہ محکمے ہمارے خدشات کو ختم نہیں کر سکے تو ہم قانونی چارہ کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں اور ایک بار پھر ہم عدالتوں سے انصاف کیلئے سے رجوع کریں گے اب متعلقہ محکموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہمارے اعتراض کو ختم کریں تاکہ صاف شفاف مردم شماری یقینی بنائی جا سکے پارٹی مردم شماری کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقف ہے ہم صاف شفاف بنیادوں پر مردم شماری ہو اس کی مخالفت نہیں کرتے لیکن خدشات و تحفظات دور نہ کرنے کی بنیاد پر مردم شماری کو قبول نہیں کریں گے ملک کے آئینی کی روح سے بھی دیکھا جائے کہ بلوچ آئی ڈی پیز کو شمار نہ کرانا ان کے حقوق کی پامالی ہو گی آواران ، مکران ، ڈیرہ بگٹی ، کوہلو ، کاہان ، جھالاوان ، مشکے ، بسیمہ و دیگر علاقوں کے بلوچ اپنے علاقوں میں نہیں ہیں ان کا شمار کیسے ممکن بنایا جائے گا ۔