|

وقتِ اشاعت :   March 1 – 2017

اسلام آباد: سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کو بتایا گیاکہ گوادر میں توانائی ،پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے منصوبے پر 70کروڑ ڈالر سے زائد خرچ کئے جائیں گے ،گوادر میں کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے پر36کروڑ ڈالر،بین لاقوامی ائیرپورٹ کے منصوبے پر23کروڑ ڈالر اورپینے کے صاف پانی کی فراہمی پر11کروڑ ڈالر خرچ کئے جائیں گے منصوبوں کیلئے دوست ملک چین سرمایہ فراہم کرے گا کمیٹی نے اقتصادی راہداری کے حوالے سے غلط فہمیوں کو ختم کرنے اور گوادر کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی ہدایت کی ہے ۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر کرنل (ر)طاہر حسین مشہدی کی زیر صدار ت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو ا ۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز سراج الحق ، مفتی عبدالستار ، سعود مجید اور سعید الحسن مندوخیل کے علاوہ سیکرٹری منصوبہ بندی کے علاوہ این ایچ اے حکام نے شرکت کی اجلاس میں صوبہ بلوچستان میں پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے لیے مختص بجٹ ، استعما ل بجٹ کے علاوہ پی ایس ڈی پی کے تحت بلوچستان کے منصوبہ جات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیاچیئرمین کمیٹی سینیٹر کرنل (ر)طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ، سیکرٹری منصوبہ بندی اور ان کی ٹیم موثر انداز میں تمام منصوبہ جات کی تکمیل میں اقدامات اٹھارہے ہیں۔ بہت بڑا منصوبہ ہے اور اس حوالے سے پیداہونے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور منصوبہ جات کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ منصوبہ جات کو زیادہ سے زیادہ ملک و قوم کے مفاد کے استعمال میں لایا جائے انہوں نے کہاکہ چین دوست ہمسایہ ملک اقتصادی راہداری کے منصوبوں سے جتنا فائدہ دوست ملک اٹھائے ایسی منصوبہ بندی کی جائے کہ پاکستان اور اس کی عوام زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکے۔ سیکرٹری منصوبہ بندی نے قائمہ کمیٹی کو بلوچستان میں جاری مختلف منصوبوں کی تفصیلات سے آگا ہ کرتے ہوئے کہا کہ گوادر میں سی پیک کے تحت 300 میگا واٹ کا کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ لگے گااور چین 36کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اور منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گاکمیٹی کو بتایا گیا کہ 23کروڑ ڈالر سے گوادر میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ تعمیر کی جائے گی اور گوادر کے عوام کیلئے صاف پانی کا منصوبہ 114ملین ڈالر سے مکمل کیا جائے گاانہوں نے بتایاکہ گوادر میں جاری منصوبہ جات کی پبلسٹی کرانا اشد ضروری ہے فری زون کے لیے 39جگہوں کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور 9صنعتی زون کی لسٹ چین سے شیئر بھی کی ہیں۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صنعتی زون میں مقامی لوگوں کو مستفید کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ پاکستانی مزدوروں اور ورکرز کی سکل ڈویلپمنٹ کی جائے ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چین کے ساتھ تجارت کے فری معاہد ے کا دوبارہ جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ایکسپورٹ بڑھانے اور امپورٹ کم کرنے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ توازن قائم کیا جائے۔ معاہدہ کرنے سے پہلے ضروری منصوبہ بندی کرلی جائے۔ تاکہ بعد میں کوئی مسئلہ مسائل پیدا نہ ہوں۔ قائمہ کمیٹی کو پی ایس ڈی پی کے تحت منصوبہ جات کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اور بتایا گیا کہ سی پیک کے حوالے سے 135منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت فنڈ فراہم کرے گی۔ اور کچھ منصوبے صوبائی حکومت بھی شروع کرچکی ہے۔ این ایچ اے کے 18منصوبے ہیں ۔ کوئٹہ چمن روڈ کا 72فیصد مکمل ہوچکا ہے ۔ کوئٹہ ، گوادر کا سفر 24گھنٹوں کی بجائے 8گھنٹوں تک محدود ہوچکا ہے۔ سینیٹر مفتی عبدالستار نے کہا کہ لک پاس پر ایک ٹنل ہے جہاں پر پل ہونے کے باوجود ٹریفک اسی ٹنل سے گذرتی ہے اور حادثات کا سبب بنتی ہے۔ سیکرٹر ی مواصلات اس حوالے سے کمیٹی کو تفصیل سے آگا ہ کریں۔ ژوب یونیورسٹی کے حوالے سے بتایا گیا کہ پی سی ون بن چکا ہے جلد منظور ہوجائے گا۔ بلوچستان میں 18یونیورسٹیاں قائم کی جارہی ہیں ۔