سونمیانی وندر: لسبیلہ کے ساحلی علاقے ڈام بندر میں محکمہ فشریز کی ملی بھگت سے ممنوعہ جالو کے بے جا استعمال سے سمندری حیات کی نسل کشی انتہائی کو پہنچ گیا وہی رب کائنات نے مقامی ماہیگیروں کی روزی روٹی کا ایک نیا وسیلہ ریز(مارولی) کی صورت میں پیدا کردیا مگر کمیشن مافیا نے یہاں بھی ڈھیرے ڈال دیئے چند ٹکوں کی خاطر دیگر صوبوں سے ہزاروں افراد کو لاکر مقامیوں پر مسلط کرنا شروع کردیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق لسبیلہ کے ساحلی علاقہ ڈام بندر جو لسبیلہ کے کونے کونے سے آنے والے مقامی لوگوں کو اپنے سینے میں بسا کر انکی روزی روٹی کا اہم ذریعہ بنا ہوا ہے محکمہ فشریز کی ملی بھگت سے ساحل سمندر میں ممنوعہ جالوں کی بے جا استعمال سے سمندری حیات کی نسل کشی انتہا کو پہنچ گئی ہے وہاں رب کائنات نے مقامی ماہیگیروں کیلے روزگار کا ایک اور وسیلہ ریزر(مارولی) کی صورت میں پیدا کردیا ہے مگر افسوس چند مفاد پرست لوگوں نے چند پیسوں کی کمیشن کے خاطر غیر مقامی افراد کو لاکر ڈام کے مقامی لوگوں پر مسلط کردیا ہے اور مارولی کے شکار کی تیاریاں کی جارہی ہیں دوسری جانب لسبیلہ کے چپے چپے سے آنے والے لوگوں کو اپنے سینے سے لگانے والے ڈام کے ماہیگیروں کو گانگوں بندر لیاری میں جو لسبیلہ ہی میں ہے مارولی کا شکار کرنے کے عوض کمیشن ادا کرنی پڑیگی اس سارے معاملے میں ڈام کے مقامی ماہیگیروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور وہ سراپا احتجاج ہیں انکا کہنا ہے کہ گانگوں بندر میں ہم سے ہی کمیشن کا مطالبہ کرنا ہمیں لسبیلہ کا مقامی تصور نہ کرنے کے مترادف ہے ..ڈام کے مقامی ماہیگیروں نے ڈی سی لسبیلہ سے مطالبہ کیا ہے اس سارے مسئلے کا ازخود نوٹس لیکر ہمیں انصاف فراہم کریں اور غیرمقامیوں سے ہمارے حقوق کی حفاظت یقینی بنائیں۔