|

وقتِ اشاعت :   March 12 – 2017

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے سی آئی اے اہلکاروں کی پاکستان میں تعیناتی کے لیے سویلین حکومت سے بات چیت کی اور حکومتی رضامندی سے سی آئی اے نے پاکستان میں کارروائیاں کیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے آرٹیکل میں حسین حقانی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اوباما انتظامیہ کے ساتھ ان کے تعلقات نے آگے چل کراسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی راہ ہموار کی اورامریکی حکومت اس قابل ہوئی کہ پاکستانی انٹیلی جنس کی مدد کے بغیر اسامہ بن لادن کا کھوج لگا لیا گیا ۔ حسین حقانی کے مطابق باراک اوباما کی الیکشن مہم کے جن ٹیم ممبرز کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات تھے ، اوباما کے اقتدار سنبھالنے کے تین سال بعد جب وہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے اہلکار بنے توانھوں نے امریکی انٹیلی جینس اور اسپیشل آپریشنز کے اہلکاروں کو پاکستانی سرزمین میں تعینات کرنے میں تعاون کی اپیل کی۔ حسین حقانی اپریل 2008 سے نومبر 2011 تک امریکا میں پاکستان کے سفیر رہے، حسین حقانی کے مطابق انھوں نے پیپلزپارٹی کی حکومت کے سامنے اپنی تجاویز رکھی تھیں، حکومت کی رضامندی کے بعد امریکی اہلکاروں کی تعینانی کی اجازت دی گئی تھی۔