|

وقتِ اشاعت :   March 25 – 2017

کراچی : کوئلے سے چلنے والے نئے حب پاور پلانٹ کی تعمیر میں شریک چینی پاور کمپنی کے چیئرمین وانگ بنگ ہاؤ نے کہا کہ2019ء میں پلانٹ کی تکمیل کے بعد اس سے پاکستانی حکومت اور مقامی عوام دونوں مستفید ہو ں گے ، کوئلے سے چلنے والا پاور پلانٹ کا یہ منصوبہ جو کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کے تحت ’’ ترجیح منصوبوں ‘‘ میں شامل ہے ، چین کی سرکاری پاور انویسٹمنٹ کارپوریشن (ایس پی آئی سی ) کے ذیلی ادارے چائنا پاور انٹرنیشنل ہولڈنگ لمٹیڈ اور پاکستان کی حب پاور کمپنی لمٹیڈ کی طرف سے سرمایہ کاری اور تعمیر کیا جارہا ہے ، اس پر لاگت کا مجموعی اندازہ تقریباً دو ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ۔وانگ نے کہا کہ پراجیکٹ کی تعمیل کے بعد مقامی عوام کو سستی بجلی فراہم ہو گی اور قریباً 4ملین پاکستانی خاندان اس پاور پلانٹ سے استفادہ کریں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئلے سے چلنے والا یہ پاور پلانٹ پاکستان کی توانائی کی کھپت میں مختلف اضافے کا باعث بنے گا تا کہ اپنی توانائی کی سکیورٹی کو یقین بنانے میں ملک کی مدد کی جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک ایک قسم کی توانائی پر انحصار نہیں کر سکتا ، بجلی سے چلنے والے پاور پلانٹ ، گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس ، شمسی فارمز ، ونڈ انرجی ، بائیو انرجی یا توانائی کی دیگر اقسام کو استعمال کیا جانا چاہئے تا کہ اس کی توانائی کی سکیورٹی کی ضمانت دی جا سکے ، اس کے پیش نظر پاکستان کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ کوئلے سے چلنے والا پاور پلانٹ تعمیر کرے ۔انہوں نے کہا جہاں تک حب پراجیکٹ کا تعلق ہے ہماری کمپنی پانچ امور کو زبردست اہمیت دے رہی ہے جن میں پلانٹ کی سیفٹی ، آپریشنل پائیداری ، ماحول دوست معیار اور معیشت اور ردو بدل شامل ہیں ، مجھے امید ہے کہ ہم پاکستان کو شاندار اور ذمہ دارانہ خدمت فراہم کررہے ہیں کیونکہ پراجیکٹ میں استعمال کئے جانیوالے تمام آلات عالمی طورپر اعلیٰ قسم کے ہیں ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ حب پراجیکٹ کوئلے سے چلنے والا پاور پلانٹ ہے ، ماحولیاتی تحفظ یا اخراج پر قابو پانے کے بارے میں اعلیٰ بین الاقوامی ٹیکنالوجیوں کو کمپلیکس میں استعمال کیا جائے گا تا کہ کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹوں کے بارے میں مقامی یا زیادہ سخت قانون کو پورا کیا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سپر کلین اخراج ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں جس سے اس پلانٹ میں اخراج اسی سطح پر ہو گا جتنا گیس سے چلنے والے پاور پلانٹ کا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ حب پراجیکٹ کے ساتھ ہم قریب ہی ایک سیمنٹ فیکٹری تعمیر کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں تا کہ پاور پلانٹ میں پیداہونیوالے تمام ناکارہ گرد کو استعمال کیا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ حب پاور پلانٹ کی تمام چمنیوں کے اوپر حساس آلات تعینات کئے جائیں گے اور آلات کی طرف سے پتہ لگائے جانیوالی ویسٹ گیس میں نائٹرک آکسائیڈ یا سلفر ڈائی آکسائیڈ جیسے کیمیکل کے بارے میں تمام ڈیٹا مقامی ماحولیاتی محکمے کو بھیجا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ میں نے تکمیل کے بعد اس پلانٹ کو پاکستانی عوام کے لئے کھولنے کو کہا ہے کہ تا کہ مقامی عوام ہمارے کوئلے سے چلنے والے پلانٹ کے ماحولیاتی دوست ہونے کا خود تجربہ کر سکیں ، ہمیں اپنے ماحولیاتی تحفظ کی ٹیکنالوجیوں کے بارے میں قوی امید ہے ۔وانگ نے کہا کہ توقع ہے کہ حب کول فائر پاور پلانٹ اگست 2019ء میں پوری طرح چالو ہو جائے گا اور یہ پاکستانی نیشنل گرڈ میں سالانہ 9بلین کلوواٹ بجلی پیدا کرے گا ،اس سے تعمیر کے دوران مقامی عوام کے لئے قریباً 10ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔