|

وقتِ اشاعت :   April 3 – 2017

کوئٹہ : وکلاء رہنماؤں نے کہاہے کہ 8اگست کے واقعہ نے ہمارے ساتھیوں نہیں بلکہ ہمارے جسم کے حصوں کو ہم سے چھین لیاہے جس کے بعد سے ایک غیر یقینی صورتحال پیداہوگیاہے ،شہید وکلاء کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے عوام کو انصاف کی فراہمی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی ،انتخابات کے ذریعے جونیئر وکلاء کو آگے لانے اورانہیں تربیت فراہم کرینگے ،بار نے نہ صر ف بلوچستان بلکہ پاکستان میں جہاں بھی مظلوم کے ساتھ ظلم ہوا ہو اس کی مخالفت کی ہے ، ان خیالات کااظہار ہادی شکیل پینل کے سنےئر رہنماء کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ ،علی احمد کرد ایڈووکیٹ اور ہادی شکیل ایڈووکیٹ اوردیگر نے ضلعی کچہری کی باروم میں محمد آصف بلوچ اور اسد خان اچکزئی ،شبیر شیرازی ایڈووکیٹ،مشتاق ترین ایڈووکیٹ،اسلم لاشاری ایڈووکیٹ،قاضی منظور ایڈووکیٹ،نیاز عمرانی ،راز ق عل زئی کے ساتھیوں سمیت ہادی شکیل پینل میں شمولیت کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی ۔وکلاء رہنماؤں نے کہاکہ بلوچستان کے وکلاء کا بار کے علاوہ جنرل سیاست میں بھی اہم کرداررہاہے اس وقت تمام تر توقعات نوجوانوں سے وابستہ ہے ،مقررین نے کہاکہ 8اگست نے ہم سے ہمارے ساتھی نہیں بلکہ ہمارے جسم کے ٹکڑے چھین لئے ہیں جس سے بار میں بہت بڑی خلاء پیداہوئی ہے اس خلاء کو مدتوں پر نہیں کیا جاسکتا مگر نوجوانوں کو آگے آکر اس خلاء کو پر کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ،انہوں نے کہاکہ 8اگست کے واقعہ کے بعد ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ،انہوں نے کہاکہ بار روم نے ہمیشہ وکلاء کی وقار کو بلند کرنے کیلئے کرداراداکیاہے مگر معاشرے میں ایک وکیل کی حیثیت ختم ہورہی ہے اور اس حیثیت کی افادیت واہمیت کیلئے ہمیں دوبارہ بار روم سے جدوجہد شروع کرنی ہوگی ،انہوں نے کہاکہ عوام کو انصاف ملنے کیلئے نظریں بار اور بینچ پر لگی ہیں ،ہمارے شہداء کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم عوام کو انصاف کی فراہمی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔