|

وقتِ اشاعت :   April 17 – 2017

کوئٹہ: لاپتہ بلوچ اسیران وشہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 2628دن ہوگئے اظہار یکجہتی کرنے والوں میں نوجوانوں کا ایک گروپ سے وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آج کے بلوچ نوجوان ہمت کے کندھوں پر شعور اور آگاہی بیٹھا کر انقلابیوں کے جابہ جا بچھائے گئے کانٹوں سے لہولہان سہی مگر دھن کے پکے من کی آتش سے روشنی پاکر اپنے عظیم مقصد کے حصول کیلئے جان ہتھلی پر رکھے رواں دواں ہیں اف خدا یا کیا لزت ہے صرف اس احساس میں کہ ایک فرد کے چند اٹھتے قدم ایک بڑی قوم کی منزل کو قریب لانے میں تاریخی اہمیت کے حامل ہیں دنیا کی معلوم تاریخ بارہا یہ ثابت کر چکا ہے کہ معروض میں تبدیلی ایسے خود آگاہ اور بلند ارادوں کے مالک انسان ہی لاتے ہیں ماما نے مزید کہاکہ علم سے محروم قوموں میں شاید یہ کام کچھ آسان ہوں مگر ہزار سالوں کی ریاضت سے وجود میں آنے والی تہذیت کے مالک اور انقلابی تعلیم سے بہرہ ور بلوچ قوم کی جذبہ حریت اور سرزمین پر مٹنے کی آتش کو یو سر کردنا چنداں سہل نہیں یہ بات طے ہے ۔ کہ ہر اسنان کیلئلے زندگی اعلیٰ اقدار تک رسائی علم کے بغیر ناممکن ہے ۔ ماما نے مزیدکہاکہ با علم لوگ اپنے آجوئی سے لیکر قومی آزادی کے بے پایاں مسرت کو اپنے با طن میں محسوس کرنے اور اس تک رسائی کیلئے جبلی طورپر دیعت شدہ اپنے قومی انسان کو عمل میں لانے قابل ہوسکتے ہیں۔