|

وقتِ اشاعت :   April 27 – 2017

کوئٹہ: سیکریٹری زراعت عبدالرحمن بزدار نے کہا ہے کہ بلوچستان زرعی اصلاحات اور زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کے لئے ضروری ہے کہ زرعی ماہرین نت نئے تجربات سے زمینداروں کو ہمہ وقت آگاہ کرتے رہیں تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوسکے۔ یہ بات انہوں نے ڈائریکٹریٹ زراعت پلاننگ سیل میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری زراعت ندیم اختر سمالانی، ڈائریکٹر زراعت مسعود بلوچ، ڈائریکٹر کوئٹہ ڈویژن محمد ابراہیم بادینی، ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن جاوید قریشی، تمام اضلاع کے متعلقہ حکام ودیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سیکریٹری زراعت عبدالرحمن بزدار نے کہا کہ ربیع سیزن کو شروع ہوئے زیادہ عرصہ گزرا لہٰذا محکمہ زراعت کے متعلقہ اضلاع کے آفیسران ڈویژنل اور ضلعی سطح پر ہر وقت زمینداروں میں آگاہی سیشنز اور انہیں نت نئے تجربات سے آگاہ کریں تاکہ وہ اپنی پیداوار بڑھا سکیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تغیراتی عمل کی وجہ سے بلوچستان میں بارشوں کی شرح بہت کم ہوچکی ہے اور اسی کی بدولت ان علاقوں میں زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے زمیندار غلط کھاد وغلط زرعی ادویات کا بے جا استعمال کرتے ہوئے ماحول اور زرعی پیداوار میں سنگین تبدیلیاں لاکر اسے مضر صحت بنارہے ہیں۔ اس کے سدباب کے ضروری ہے کہ زمینداروں اور کاشتکاروں کو آگاہی فراہم کی جاسکے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بلوچستان میں آبی کمی کی سنگین صورتحال ہوتے ہوئے بھی زمیندار ان فصلات کو اگارہے ہیں جو کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے تمام آفیسران پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سے ربیع اور خریف سیزن میں فیلڈ میں جاکر آگاہی مہم چلائیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ کے آمدنی میں زرات اور زرعی پیداوار کا حصہ بہت زیادہ ہے مگر غلط طریقوں کے استعمال سے آمدن وپیداوار میں خاطر خواہ کمی آچکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زرعی ماہرین کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے لوگوں میں شعور وآگاہی کے لئے منفرد انداز میں کام کریں جبکہ زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لئے محکمہ زراعت تمام دستیاب وسائل کو استعمال میں لارہی ہے۔