|

وقتِ اشاعت :   April 29 – 2017

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے تعلیم سینٹر بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ بنگلادیش کی پاکستان سے علیحدگی کی بنیادی وجہ علاقائی زبانیں ہیں ،بنگلا دیش کی عوام کی رائے تھی بنگالی کو قومی زبان ہونا چاہیے، علاقائی زبانیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کمیٹی کا اجلا س چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد جاوید عباسی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں علاقائی زبانوں کو قومی درجہ دینے کے متعلق سینیٹر سسی پلیجو اور سینیٹر کریم احمد خواجہ کے بلوں کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد جاوید عباسی نے کہا کہ دونوں بلوں پر اراکین کمیٹی محرکین بلوں و دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے تفصیلی بحث کے بعد رائے حاصل کی گئی اوراس حوالے سے پبلک ہیئرنگ بھی کروائی گئی جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے اہل قلم و دانشوروں نے علاقائی زبانوں کو قومی درجہ دینے کی رائے دی تھی ۔ آج وزیر تعلیم ، وزارت قانون اور صوبوں سے بھی اس حوالے سے رائے حاصل کی جائے گی وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم وپیشہ وارانہ تربیت بلیغ الرحمن نے کہا کہ علاقائی زبانیں بہت اہمیت کی حامل ہیں ۔ سانحہ بنگلہ دیش بھی زبان کے مطالبے پر ہوا تھا ۔ بلوچستان میں چھ زبانوں کو درس تدریس کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ علاقائی زبانوں کو فروغ دینا وفاق کیلئے فائدہ مند ہے ۔ کسی بھی صوبے کو تعلیم کیلئے زبان کے انتخاب پر کوئی قدغن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی زبان کو قومی درجہ دینے کے حوالے سے وزارت تعلیم کا کوئی کردار نہیں ہے ۔ کچھ ممالک میں ایک سے زائد قومی زبانیں قومی درجہ رکھتی ہیں بہتر یہی ہے کہ ایک طریقہ کار مقرر کیا جائے جو زبان پانچ فیصد کسی صوبے میں بولی جاتی ہے اس کو قومی درجہ دیا جائے ۔ ملک میں 72 علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں ایک پیمانہ بنا کر قومی درجہ دیا جا سکتا ہے ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی کی بھی رائے حاصل کی جائے جس پر قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں مقتدرہ قومی زبان اکیڈمی آف لیٹر اور دیگر متعلقہ اداروں کی رائے حاصل کر کے فیصلہ کیا جائے گا۔سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ کسی بھی ملک کی آبادی کی ترقی کیلئے مادری زبان کی ترقی ضروری ہے ۔ سینیٹر سسی پلیجو اور ڈاکٹر کریم خواجہ کے بلوں کو کلب کر دیا جائے یہ سات زبانیں جن میں پنجابی ، سندھی ، پشتو، بلوچی ، بروہی ، ہندکو اور سرائیکی شامل ہیں یہ ملکی 85 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں ان کو قومی درجہ دیا جائے اور بعد میں باقی زبانوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے ۔ سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ علاقائی زبانیں دیگر صوبوں اور بین الاقوامی سطح پر پھیلی ہوئی ہیں انہیں آئینی تحفظ دینا چاہیے ۔ قائمہ کمیٹی نے سینیٹر ظہیر الدین بابر اور سینیٹر حافظ حمد اللہ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں عدم شرکت پر دونوں سینیٹر ز کے آئینی ترمیمی بلز2017 ڈراپ کر دیئے گئے۔ عدالتوں میں مقدمات کے متبادل حل کے بل 2017 کے حوالے سے سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہامیں نے جو تجاویز دیں تھیں وہ بل میں شامل تو کر دی گئیں ہیں مگر ورکنگ پیپر ز آج ملے ہیں ان کا جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔